انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 639

انوار العلوم جلد 26 639 جلسہ سالانہ قادیان 1962ء کے موقع پر روح پرور پیغام أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ پیغامات نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ برادران جماعت احمد یہ بھارت ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ میری خلافت کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ کشفی طور پر دیکھا کہ ایک شخص جس کا نام مجھے عبد الصمد بتایا گیا کھڑا ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ” مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی برکتیں یا رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔“ یہ الہام گو عمومی رنگ میں ہماری ساری جماعت پر ہی چسپاں ہو سکتا ہے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے صرف آپ کی جماعت ہی وہ غریب جماعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے درویشانہ رنگ میں خدمت سلسلہ کی توفیق عطا فرمائی اور نا مساعد حالات میں بھی آپ لوگ خدائے واحد کا نام بلند کرتے رہے۔پس آپ لوگ یقیناً خوش قسمت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لئے چن لیا۔اور پھر مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس بات کی بھی بشارت دے دی کہ وہ اس درویشانہ خدمت کے نتیجہ میں آپ لوگوں کو خلافت کی برکات سے خاص طور پر حصہ عطا فرمائے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ جہاں یہ الہام آپ لوگوں کے لئے بڑی بھاری بشارت کا حامل ہے وہاں اس سے آپ لوگوں کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جن سے عہدہ برآ ہونے کی صرف وہی صورت ہے جس کی طرف عبد الصمد نام میں اشارہ کیا گیا ہے۔صمد کے معنی اُس ذات کے ہوتے ہیں جو کسی کی محتاج نہ ہو ،لیکن کوئی دوسرا وجود اُس سے غنی نہ ہو۔یعنی کوئی وجود ایسا نہ ہو جو اُس کی مدد کے بغیر قائم رہ سکے۔اسی طرح صمد کے معنی ہمیشہ قائم رہنے والے اور نہایت بلند شان والے کے بھی