انوارالعلوم (جلد 26) — Page 590
انوار العلوم جلد 26 590 پیغامات ہم جماعت احمد یہ انڈونیشیا کی سالانہ کانفرنس 18 تا 20 جولائی 1958ء کے موقع پر پیغام مری 16 جولائی 1958 ء۔میں انڈونیشیا کے احمدی مردوں اور عورتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور ان کی کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا ورنہ اس وقت تک جماعت کے افراد کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز ہو چکی ہوتی۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے طریقہ کار میں اصلاح کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدائے تعالیٰ اور مخلوق کے سچے خادم ثابت کریں گے۔خدا تعالیٰ آپ کے ملک کو برکت دے اور ہمیشہ صحیح راستے کی طرف اس کی رہنمائی فرماتا رہے۔(خلیفة المسیح الثانی) ( تاریخ احمدیت جلد نمبر 20 صفحہ 118 ناشر نظارت اشاعت ربوہ) مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے سالانہ اجتماع پر پیغام خدام الاحمدیہ کراچی کی طرف سے درخواست کی گئی ہے کہ میں اُن کے سالانہ جلسہ کے لئے کوئی پیغام بھیجوں۔خدام الاحمدیہ کو ایک ہی پیغام ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں اور بنی نوع انسان کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔میں مرکزی خدام الاحمدیہ کے ایک سالانہ جلسہ میں یہ تقریر کر چکا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کے یہ معنے نہیں کہ یہ احمدیت کے خادم ہیں بلکہ یہ کہ احمدیوں میں سے بنی نوع انسان کے یہ خادم ہیں۔اُس اپنی تقریر کو میں پھر یاد دلاتا ہوں اور کراچی کے خدام سے کہتا ہوں کہ وہ پاکستان کے مرکز میں بستے ہیں جہاں تمام دنیا کے آدمی آتے ہیں اور جہاں خدمت کا بہترین موقع ان کو مل سکتا ہے۔وہ اس طرف توجہ کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو یاد رکھیں کہ سچا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں 3۔خالی مسلمان کہلانے سے کچھ نہیں بنتا۔بلکہ اصل مسلمان وہ ہے جو دنیا کو امن بخشے۔پس دنیا کو