انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 459

انوار العلوم جلد 26 459 سیر روحانی (12) فلسطین پر قابض ہو جائیں گے تو مجھے بوجہ پٹھان ہونے کے سخت غصہ آیا کیونکہ ہم تو بنی اسرائیل کے دشمن ہیں اور آپ نے لکھا تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین پر قابض ہو جائیں گے۔لیکن جب امریکہ اور انگریزوں کی مدد سے بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہو گئے تو مجھے بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ قرآن کریم سچا ثابت ہو گیا کیونکہ یہ واقعہ قرآن کریم کی اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔قرآن کریم میں جغرافیہ کا ذکر پھر قرآن کریم میں جغرافیہ کا علم بھی بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قوم سبا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُن کا ملک بہت آباد تھا اور اُن کے ملک سے فلسطین تک بستیاں ہی بستیاں چلی جاتی تھیں لیکن اس ملک کے رہنے والوں نے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور انہوں نے کہا رَبَّنَا عِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْتُهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَقْنَهُمْ كُلِّ مُمَزَّقٍ - 87 یعنی اے ہمارے رب ! ہمارے سفروں کو لمبا کر دے اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا پس ہم نے اُن کا نام مٹا دیا اور اُن کو قدیم زمانہ کے افسانے بنادیا اور انہیں تباہ کر کے ذرّہ ذرّہ کر دیا۔گویا سبا قوم کی ناشکری کے باعث اُن پر تبا ہی آگئی اور اُن کا سارا ملک تباہ ہو کر ویران ہو گیا۔قرآن کریم کے اس بیان کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایک بہت بڑے لشکر کو لے کر یمن آئے اور وہ بآسانی وہاں پہنچ گئے اور اُن کو کوئی تکلیف نہ ہوئی۔لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے قبل ابرہہ نے یمن کے لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا تو واپسی پر اُس کا لشکر راستہ کھو جانے کی وجہ سے بالکل تباہ ہو گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت تک وہ سب بستیاں تباہ ہو چکی تھیں۔ان دونوں واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں قوم سبا کا جو جغرافیہ بیان کیا گیا ہے کہ اُن کے علاقہ سے فلسطین تک بستیاں ہی بستیاں چلی جاتی تھیں وہ بالکل درست ہے۔اس طرح اُس نے سبا کی تباہی کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔غرض قرآن کریم کے اندر جو عظیم الشان کتب خانے موجود ہیں اُن کی مثال دنیا کے کسی کتب خانہ میں نہیں