انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 458

انوار العلوم جلد 26 458 سیر روحانی (12) چین پر قابض ہو گیا اور انگریز اور امریکہ سمندر سے آ رہے ہیں اور اس تاریخ کو جو قرآن کریم نے آئندہ زمانہ کی بیان کی تھی پورا کر رہے ہیں۔فلسطین پر یہود کے قبضہ کی پیشگوئی اسی طرح قرآن کریم نے بنی اسرائیل کے متعلق واقعات بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تو رات میں ان کے متعلق پیشگوئی تھی کہ ان پر دودفعہ تباہی آئے گی اور وہ بیت المقدس سے نکالے جائیں گے۔چنانچہ اُن کی پہلی تباہی نبو کد نضر بادشاہ کے حملہ سے ہوئی اور دوسری تباہی ٹائیٹس رومی کے ذریعہ سے ہوئی جو مسیح کے صلیب کے واقعہ کے 70 سال بعد یہودیوں پر حملہ آور ہو ا تھا۔ان واقعات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ قُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا - 86 یعنی فرعون کے سمندر میں ڈوب مرنے کے بعد ہم نے بنی سرائیل کو کہ دیا تھا کہ تم فلسطین میں جا کر آباد ہو جاؤ۔لیکن ایک وقت کے بعد تم کو فلسطین سے نکلنا پڑے گا اور پھر خدا تعالیٰ تم کو واپس لائے گا۔پھر تم نا فرمانی کرو گے اور تم پر دوسری دفعہ عذاب آئے گا۔پھر تم جلا وطن رہو گے یہاں تک کہ تمہاری مثیل قوم یعنی مسلمانوں کی تباہی کے متعلق جو دوسری خبر ہے اُس کا وقت آ جائے گا۔اُس وقت پھر تم کو مختلف ملکوں سے جمع کر کے ارض مقدس میں اکٹھا کر دیا جائے گا۔پس اس آیت میں بنی اسرائیل کے فلسطین پر قابض ہونے کی پیشگوئی تھی جواب پوری ہو چکی ہے۔میں نے جب پہلی تفسیر کبیر جو سورۃ یونس سے لے کر سورۃ کہف تک کی تفسیر پر مشتمل ہے لکھی تھی تو میں نے اُس میں استدلال کیا تھا کہ ان آیات میں بنی اسرائیل کے فلسطین پر قابض ہونے کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے۔ایک دفعہ میں شملہ گیا اور چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے ہاں مہمان ٹھہرا۔اُن کے ہاں اُس وقت خان علی قلی خاں بھی بطور مہمان ٹھہرے ہوئے تھے ( جو لیفٹینٹ جنرل حبیب اللہ خاں صاحب کے والد تھے ) انہوں نے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب سے تفسیر کبیر مطالعہ کے لئے مانگی۔پارٹیشن کے بعد انہوں نے مجھے لکھا کہ جب میں نے آپ کی تفسیر میں یہ پڑھا کہ بنی اسرائیل ایک وقت میں پھر