انوارالعلوم (جلد 26) — Page 442
انوار العلوم جلد 26 442 سیر روحانی (12) یا مرہم حوار تین بیان کیا گیا ہے۔پھر کہیں جا کر وہ زخم درست ہوئے۔اس کے بعد آپ کشمیر کی طرف آگئے۔چنانچہ افغانستان کے بارڈر پر جو قبائل بستے ہیں وہ اب تک یہی کہتے ہیں کہ ہم بنی اسرائیل ہیں گویا مسیح کے حواری۔متی نے انجیل میں ایک نامکمل بات بیان کر دی لیکن قرآن کریم نے اُن حالات کو مکمل کر دیا اور بتا دیا کہ صرف اتنی بات نہیں کہ وہ واقعہ صلیب کے بعد بدلیوں میں چُھپ کر غائب ہو گئے تھے بلکہ صلیب سے بچنے کے بعد وہ کشمیر میں آگئے تھے اور اسرائیلی قبائل کو ایک لمبے عرصہ تک تبلیغ کرتے رہے۔تاریخ ملل قدیمہ پھر دنیا میں تاریخ ملل قدیمہ پر بھی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں بہت کچھ رطب و یا بس بھرا پڑا ہے مگر قرآن کریم اس تاریخ کو بھی صحیح رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔چنانچہ اس کی مثال کے طور پر وہ یہ بیان کرتا ہے کہ فرعون نے ایک دفعہ ہامان سے کہا کہ فَا وَ قِدْ لِي يُهَا مَنْ عَلَى الدِّينِ فَاجْعَلْ فِي صَرْحًا لَّعَلَّى أَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَ إِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَذِبِينَ 50 یعنی اے ہامان ! تو اپنے پتھیروں کو لگا دے تاکہ وہ اینٹیں تیار کریں ، پھر اُن اینٹوں کو پکوا کر اونچا محل تیار کرو شاید میں اُس محل پر کھڑے ہو کر موٹٹی کے خدا کو دیکھ سکوں اور میں تو اُسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔اس آیت میں مصریوں کے ایک قومی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ مرنے کے بعد رُوحیں آسمان پر چلی جاتی ہیں اور پھر اونچی جگہ پر اُترتی ہیں۔اس اثر کے ماتحت فرعون نے خیال کیا کہ خدا تو ہے ہی نہیں۔موسی جو کہتا ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ روحوں سے باتیں کرتا ہے۔میں بھی ایک اونچا محل تیار کر کے اُن روحوں تک جاؤں تا حقیقت کا پتا لگ سکے۔چنانچہ اُس نے ہامان کو حکم دیا کہ وہ ایک اونچا محل تیار کرائے تا کہ وہ اُس کی چوٹی پر چڑھ کر موسی کے خدا کی حقیقت معلوم کر سکے۔غرض اس آیت میں مصریوں کے ایک قدیم عقیدہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کو بڑی مشکل سے اب کہیں آثار قدیمہ والوں نے معلوم کیا ہے۔مصری اپنی ان روایات کی وجہ سے