انوارالعلوم (جلد 26) — Page 441
انوار العلوم جلد 26 441 سیر روحانی (12) باپ کی براءت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ مشرک نہیں تھا مشرک ایک اور شخص تھا جس کا نام سامری تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کی تاریخ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کی تاریخ بھی صرف اتنا آتا ہے کہ :- قرآن کریم نے بیان کی ہے۔انجیل میں تو در مسیح اُن کے دیکھتے ہوئے او پر اُٹھایا گیا اور بدلی نے اُسے اُن 48،، کی نظروں سے چھپا لیا۔8 مگر کیا بدلی کے پیچھے چلے جانے سے مراد آسمان پر چلے جانا ہوتا ہے؟ ہزاروں آدمی روزانہ پہاڑوں پر بدلی کے پیچھے جاتے اور پھر واپس آ جاتے ہیں اور کوئی شخص اُن کے متعلق نہیں کہتا کہ وہ آسمان پر چلے گئے ہیں۔غرض یہ ایک نہایت ہی غیر معقول بات ہے جو انجیل نے بیان کی ہے۔مگر قرآن کریم اس سارے واقعہ کو ایک علمی اور تاریخی رنگ دیتا ہے اور اُن کے بدلی میں نظروں سے غائب ہونے کے بعد کی تاریخ بھی بیان کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَ أوَيْنَهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ 49 یعنی واقعہ صلیب کے بعد ہم نے حضرت مسیح اور اُس کی ماں کو ایک اونچی جگہ یعنی پلیٹیو (PLATEAU) پر پناہ دی۔ربوہ سے مراد پہاڑی نہیں بلکہ اونچی جگہ ہے۔ہم نے ربوہ کا نام بھی جو احمدیت کا موجودہ مرکز اور ضلع جھنگ میں واقع ہے اِسی لئے ربوہ رکھا ہے کہ یہ اونچی جگہ ہے۔غرض قرآن کریم بتا تا ہے کہ ہم نے مسیح اور اُس کی ماں کو ایک ایسی جگہ پناہ دی جو اونچی تھی اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی اور ٹھہرنے کے قابل تھی یعنی وہ جگہ سطح زمین سے بلند تھی اور وہاں چشمے بھی بہتے تھے۔چنانچہ قدیم ہندوؤں اور بدھوں کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف جو خدا تعالیٰ کا نبی تھا مغرب سے آیا اور کشمیر کی پہاڑیوں میں رہا اور اُس کے ہاتھوں اور پیروں پر زخم تھے۔واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا تو آپ کے ہاتھوں اور پاؤں پر میخیں لگانے کی وجہ سے زخم ہو گئے تھے جن کو مندمل کرنے کے لئے ایک مرہم ایجاد کی گئی جس کا نام طب کی مختلف کتابوں میں مرہم رسل