انوارالعلوم (جلد 26) — Page 432
انوار العلوم جلد 26 432 سیر روحانی (12) جانوروں کے نرومادہ کا بھی علم ہے، زراعت کے متعلق بھی اب بہت حد تک پتا لگ گیا ہے کہ درختوں اور نباتات میں نرومادہ کا وجود پایا جاتا ہے۔چنانچہ عام طور پر یہ قانون بتایا جاتا ہے کہ باغوں میں شہد کی مکھیاں پالنی چاہئیں اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ شہد کی مکھی نرکا پھول لے کر مادہ کے پھول سے ملا دیتی ہے اور اس کے نتیجہ میں پھل زیادہ ہوتا ہے۔ہمارے علاقہ میں تو اس کا رواج کم ہے لیکن پشاور کی طرف چلے جاؤ تو بڑے بڑے خاندانوں نے اپنے باغات میں شہد کی مکھیاں پالی ہوئی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہاں باغ زیادہ لگائے جاتے ہیں اور اُن میں پھل زیادہ آتا ہے۔بلکہ تازہ سائنٹیفک تحقیقات سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ جمادات میں بھی بعض قسمیں ایسی ہیں جن میں نر و مادہ کا وجود پایا جاتا ہے۔چنانچہ بعض سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ ٹین 29 میں بھی نر و مادہ پایا جاتا ہے۔مسئلہ ارتقاء اور قرآنی کتب خانہ پھر نیچرل ہسٹری والے بیان کرتے ہیں که انسان بندر سے بنا ہے۔چنانچہ ڈارون نے اس تھیوری کو پیش کیا کہ پہلے دنیا میں چھوٹے جانور بنے۔پھر اُس سے بڑے جانور بنے اور پھر اُن جانوروں میں سے کسی جانور سے ترقی کر کے انسان بنا مگر وہ جانور جس سے انسان بنا اب ملتا نہیں۔ہاں اتنا پتا چلتا ہے کہ اس جانور کی اعلیٰ قسم بندر ہے۔گویا اس کے نزدیک انسانی ارتقاء بندروں کی قسم کے ایک جانور سے ہوا ہے۔مگر بعض دوسرے محققین کہتے ہیں کہ گوانسان نے ارتقائی قانون کے ماتحت ہی ترقی کی ہے مگر وہ حیوانات کی نسل سے بہت پہلے سے جُدا ہو چکا تھا اور اُسی وقت سے آزادانہ ترقی کر رہا ہے۔چونکہ دنیا اس بارہ میں صحیح علم کی سخت محتاج تھی اِس لئے قرآنی کتب خانہ نے اس اہم موضوع کے متعلق بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا وَقَدْ خَلَقَكُمْ اَظوَارًا - 30 یعنی اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق وقار کا خیال نہیں رکھتے۔وقار کے معنے عام طور پر سنجیدگی کے سمجھے جاتے ہیں حالانکہ وقار کے معنے ہوتے ہیں حکمت کے ساتھ کام کرنا۔پس مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا کے یہ معنے ہیں کہ