انوارالعلوم (جلد 26) — Page 430
انوار العلوم جلد 26 430 سیر روحانی (12) میں یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ عاد قوم کے متعلق تاریخ کی سینکڑوں صفحات کی کتابیں اس سے زیادہ معلومات بیان نہیں کر سکیں جتنی معلومات قرآن کریم نے چند مختصر الفاظ میں بیان کر دی ہیں۔میں نے خود عاد قوم کا بعلبک میں محل دیکھا ہے جو ایک سو پچاس ستونوں پر بنا ہوا ہے اور ان ستونوں پر کئی بڑے بڑے کمرے اور برآمدے بنے ہوئے ہیں۔اور قرآن کریم نے بھی یہی بتایا تھا کہ وہ ستونوں پر اپنی عمارتیں کھڑی کیا کرتے تھے۔معلوم ہوتا ہے اُن دنوں فنِ تعمیر اپنے عروج پر تھا۔گویا قرآن کریم میں علم تاریخ کے علاوہ علم تعمیر بھی آگیا۔اسی طرح قوم خمود کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادَأُ الأولى وَثَمُودَا فَمَا ابْقَى 23 یعنی اُس خدا نے پہلی عاد قوم کو ہلاک کیا تھا اور پھر ان کے بعد ثمود کو بھی اُس نے ہلاک کیا اور عذاب نے ان کا کچھ بھی نہ چھوڑا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خمود، عاد قوم میں سے نکلے تھے۔چنانچہ نئے آثار جو اب اُردن میں پائے گئے ہیں وہ نمود کے ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ وہ آثار کسی متمدن قوم کے ہی ہیں۔پس تاریخ عالم کو بھی قرآن کریم نے اپنے اندر خلاصہ بیان کر دیا ہے۔نیچرل ہسٹری پر اسی طرح دنیا میں ایک علم نیچرل ہسٹری (Natural History) کا پایا جاتا ہے۔جس کے ماتحت شہد کی مکھیوں اور چیونٹیوں قرآن کریم کی روشنی وغیرہ کے متعلق بڑی وسیع تحقیق کی گئی ہے۔اس علم پر قرآن کریم نے بھی روشنی ڈالی ہے اور شہد کی مکھی کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے۔اور بتایا ہے کہ ہم نے خود اس کے ظرف کے مطابق اس کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں یا درختوں یا عرشوں پر اپنا گھر بنا اور پھر ہر قسم کے پھلوں میں سے تھوڑا تھوڑا لے کر کھا اور لوگوں کے لئے شہد تیار کر 24۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ شہد کی مکھیاں بھی مختلف قسم کی ہیں۔اُن میں سے بعض پہاڑوں میں چھتے بناتی ہیں ، بعض درختوں پر چھتے بناتی ہیں اور بعض عرشوں پر جو انگوروں وغیرہ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں چھتے بناتی ہیں۔اور پھر مکھی اُس استعداد باطنی سے کام لے کر جو خدا تعالیٰ نے اس کے اندر پیدا کی ہے مختلف پھلوں اور پھولوں وغیرہ سے غذا حاصل کرتی اور شہد تیار کرتی ہے جو مختلف رنگوں اور مختلف اقسام کا ہوتا ہے مگر باوجود مختلف