انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 393

انوار العلوم جلد 26 393 ساڑھے سات سو روپیہ فی ایکٹر آمدنی ہونی چاہئے۔اور جاپان کے لحاظ سے دو ہزار روپیہ فی ایکٹر آمد ہونی چاہئے۔تم سمجھ لو کہ اگر ہمارے ملک کے زمیندار اٹلی ، ہالینڈ اور جاپان کے زمینداروں جتنی محنت کریں تو ہمارا ملک کس قدر مالدار ہوسکتا ہے۔اور ہماری جماعت کی تبلیغی کوششیں کتنی وسیع ہو سکتی ہیں۔اگر ہمارے ملک کی پیدا وار اٹلی جتنی بھی ہو تو جماعت کی موجودہ مقدار کے لحاظ سے ہمارا سالانہ چندہ اتنی لاکھ یا ایک کروڑ کے قریب ہو جاتا ہے۔اور جوں جوں جماعت بڑھتی جائے گی چندہ بھی بڑھتا جائے گا۔اور ایک کروڑ سالانہ کی آمد پر ہم اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔پھر بڑی سہولت تو یہ ہے کہ اگر اس قدر پیداوار بڑھ جائے تو پاکستان کے پاس زر مبادلہ اس قدر بڑھ جائے گا کہ وہ ہمیں مبلغوں کو بھیجنے کے لئے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ دے سکے گا اور ان کی تبلیغ بڑی وسیع ہو جائے گی۔اور اگر باہر والے بھی کوشش کریں تو اُن کی مدد سے یورپ کے ہر بڑے شہر میں مساجد بن سکتی ہیں۔اور یورپ جواب تثلیث کا گڑھ ہے آئندہ تو حید کا علمبر دار ہو جائے گا۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کی حکومت کی بجائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہو جائے گی۔اور واحد خدا کی تبلیغ اس طرح روس میں کامیاب ہو جائے گی جس طرح آج کل دہریت کی تبلیغ کامیاب ہو رہی ہے۔زراعت کی زیادہ پیداوار کے لئے کھاد کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔خصوصا مصنوعی کھاد پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔دو سال ہوئے امریکہ سے کچھ ماہرینِ زراعت آئے تھے۔میں نے پاکستان کے بعض ماہرین زراعت کو اُن کے پاس بھیجا تھا۔انہوں نے کہا کہ تمہارے ملک میں مصنوعی کھا د غلط طریق پر استعمال کی جاتی ہے۔ہمارا تجربہ یہ ہے کہ اگر مصنوعی کھاد میں نباتاتی یا حیوانی کھاد زیادہ مقدار میں نہ ملائی جائے تو مصنوعی کھاد سے زمین خراب ہو جاتی ہے اور پیداوار ترقی نہیں کرتی۔اور امریکہ کا پرانا تجربہ یہ بھی ہے کہ نباتاتی کھاد کے لئے برسیم کی بجائے جس پر ہمارے ملک میں زور دیا جاتا ہے سورج مکھی کی کاشت پر زور دیا جائے۔اور جب سورج مکھی کی فصل کچھ بڑی ہو جائے تو بل کے ذریعہ زمین میں دفن کیا جائے تا کہ اس میں نباتاتی کھاد پہنچ جائے۔اُس وقت مصنوعی کھاد