انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 392

انوار العلوم جلد 26 392 کہنے لگے آپ کو یہ کس طرح پتا لگ گیا کہ یہ کھیت کسی سکھ کا ہے اور ساتھ والا کسی مسلمان کا ہے؟ میں نے کہا مجھے پتا ہے کہ سکھ محنت کرتا ہے اور مسلمان اپنے کھیت میں سارا دن حقہ پیتا رہتا ہے اس لئے مسلمان کی فصل خراب ہوتی ہے اور سکھ کی فصل اچھی ہوتی ہے۔چنانچہ اس تجربہ کے ماتحت جب میں نے عمدہ فصل دیکھی تو میں نے سمجھ لیا کہ یہ کسی سکھ کا کھیت ہے۔اور جب میں نے اس کے ساتھ ہی ایک رڈی فصل دیکھی تو میں نے سمجھا کہ یہ کسی مسلمان کا کھیت ہوگا۔چنانچہ اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارا زمیندار محنت سے جی چراتا ہے اور حقہ وغیرہ میں زیادہ وقت صرف کرتا ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہمارا مزدور عمارت بناتے ہوئے اینٹ اٹھاتا ہے تو اُس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ گویا اُس کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے۔وہ آہستہ آہستہ جا کر ایک اینٹ کو اٹھاتا اور پھر اُسے پھونک مار مار کر صاف کرتا ہے۔پھر ٹوکری میں بڑے اطمینان سے رکھتا ہے۔پھر دوسری اینٹ اٹھاتا ہے اور اس کے ساتھ بھی یہی کچھ کرتا ہے۔اور پھر کوئی آدھ گھنٹہ میں ایک ٹوکری اٹھا کر معمار کے پاس پہنچتا ہے۔جب میں 1924ء میں انگلستان گیا تو ایک دن میں حافظ روشن علی صاحب سے میں نے کہا کہ کیا آپ نے یہاں کوئی عمارت بنتے دیکھی ہے؟ کہنے لگے ہاں دیکھی ہے۔میں نے کہا کیا اس جگہ میں اور ہمارے ملک میں کوئی فرق ہے؟ کہنے لگے اس ملک میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کسی عمارت کو آگ لگی ہوئی ہے اور یہ لوگ اسے بجھانے کے لئے جارہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں مزدور کیا اور معمار کیا سب اس طرح کام کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے افیون کھائی ہوئی ہے۔اگر زمیندار محنت سے کام کریں تو ایک ایکڑ کا مالک بھی بڑی اچھی طرح اپنے خاندان کو پال سکتا ہے۔مختلف ممالک میں پیداوار کا جو اندازہ لگایا گیا ہے اس کے مطابق یورپ کے ملکوں میں اٹلی کی آمد سب سے کم ہے لیکن وہاں بھی 1400 روپیہ فی ایکٹر آمد ہے۔ہالینڈ میں تین ہزار روپے فی ایکڑ آمد ہے اور جاپان میں چھ ہزار فی ایکڑ آمد ہے۔چونکہ ساری زمین کا 1/3 حصہ زیر کاشت لایا جاتا ہے اس لئے اٹلی کے لحاظ سے ساری مملوکہ زمین پر 450 روپے فی ایکڑ آمد ہونی چاہئے۔اور ہالینڈ کی آمد کے حساب سے