انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 362

انوار العلوم جلد 26 362 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب داخل ہوا ہے۔اس کا باپ یہودی مذہب کا عالم تھا۔جب اس نے اپنے باپ سے ذکر کیا تو اس نے جواب دیا کہ مجھے تو اسلام سچا نظر نہیں آتا لیکن اگر تمہیں سچا نظر آئے تو میں تمہیں روکتا نہیں تم بے شک اسلام قبول کر لو۔جن لوگوں کے دلوں میں سچائی کی قدرو قیمت کا احساس ہوتا ہے اگر وہ خود اسلام قبول نہ کریں تو اپنی اولادوں کو اس کے قبول کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ رستہ کھول دیتا ہے۔پس آپ لوگ دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ یورپ اور امریکہ میں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے رستہ کھو لے۔اور ہماری جو سکیم ہے کہ یورپ میں ہماری کئی مساجد ہوں ، امریکہ کی ہر ریاست میں کئی مساجد ہوں اس کو خدا تعالیٰ جلد سے جلد پورا کرے۔اسی طرح سپین کے لئے بھی دعا کریں کہ وہ اسلام کی ابتدائی فتوحات میں شامل تھا مگر اب وہاں جبری طور پر عیسائیت کو پھیلا دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس علاقہ میں اسلام کی نصرت کے سامان پیدا کرے تا بنوامیہ کے زمانہ میں جو اسلام وہاں داخل ہو ا تھا اور پھر وہاں سے نکال دیا گیا تھا خدا تعالیٰ اسے احمدیت کے ذریعہ پھر وہاں دوبارہ قائم کر دے۔“۔دعا کے بعد فرمایا : - آئندہ کے لئے یا د رکھو کہ بیماری کی وجہ سے میرے پاؤں کا نپتے ہیں۔اس لئے تقریر کے وقت کوئی چھوٹی سی میز ہونی چاہئے جس پر میں سہارا لے سکوں۔خالی سوٹی پر سہارا لینے سے بعض اوقات کام نہیں بنتا۔میز کے ساتھ میں زیادہ دیر کھڑا ہو سکتا ہوں اور بول بھی زیادہ سکتا ہوں۔اس سال مجھے کمزوری زیادہ ہے۔گو عقلاً ثابت ہوتا ہے کہ یہ وہم ہے۔اس لئے کہ میں پہلے سمجھتا تھا کہ شاید یہ کمزوری بڑھاپے کی وجہ سے ہے لیکن یہ تو چند ماہ سے فرق پڑا ہے اور چند مہینوں میں عمر میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اس لئے ڈاکٹروں کی رائے مجھے صحیح معلوم ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اصل میں کمزوری نہیں ہے صرف وہم ہے۔ملنے والے بھی کہتے ہیں کہ آپ کی صحت اچھی معلوم ہوتی ہے مگر مجھے کمزوری نظر آتی ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹروں کی رائے صحیح ہے کہ مجھے بیماری نہیں۔مگر بہر حال جو خرابیاں ہیں وہ تو ہیں ہی۔اس لئے ضروری ہے کہ تقریر کے وقت