انوارالعلوم (جلد 26) — Page 324
انوار العلوم جلد 26 324 اور باوجود اس عظیم الشان نشان کے پھر گیا تھا کہ اُس نے ” دو بار دکھائی دے کر اس کو اس بات کا حکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے۔پر اُس نے وہ بات نہ مانی جس کا حکم خداوند نے دیا تھا۔“ 17 سیر روحانی (11) قرآن تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔عام مسلمان جس پر قرآن نازل نہیں ہوا وہ بھی اگر قرآن کی تعمیل نہ کرے تو کافر ہو جاتا ہے۔مگر سلیمان نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ اتنا کج راہ اور اتنا خطر ناک کا فر تھا کہ دو دفعہ خدا اُس پر ظاہر ہوا اور دو دفعہ خدا نے ظاہر ہو کر اُسے کہا کہ غیر معبودوں کی پرستش نہ کرنا مگر پھر بھی وہ اپنی بیویوں کے حُسن اور اُن کی زیبائش کو دیکھ کر خدا تعالیٰ سے اتنا پھر ا کہ غیر معبودوں کے لئے اُس نے مسجد میں بنائیں اور اُن کے آگے سجدہ کرنے لگ گیا۔مگر تاریخی شہادتوں سے پتا لگتا تاریخی شہادت سے قرآنی بیان کی تصدیق ہے کہ جو قرآن نے بات کہی تھی وہی ٹھیک ہے اور جو بائبل نے کہی تھی وہ غلط ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خود عیسائی محققین نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ بائبل میں حضرت سلیمان پر یہ جھوٹا الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے غیر معبودوں کی پرستش کی اور خدائے واحد کو چھوڑ دیا۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا بلی کا جو بڑے بڑے پادریوں اور یہودی علماء نے لکھی ہے اور جس میں نہ صرف پرانی تاریخی کتب کا نچوڑ آ گیا ہے بلکہ نئی علمی تحقیقات بھی اُس میں شامل ہیں اُس میں لکھا ہے کہ :- وو یہ بات تو صحیح ہے کہ حضرت سلیمان کی بہت سی بیویاں تھیں کچھ اسرائیلی اور کچھ غیر اسرائیلی۔لیکن نہ تو انہوں نے اُن سب کے لئے قربان گاہیں بنائی تھیں اور نہ انہوں نے اپنی بیویوں کے دیوتاؤں کی عبادت کو کبھی خدا تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ملایا تھا۔آپ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے انکار کا کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ، 18 66