انوارالعلوم (جلد 26) — Page 314
انوار العلوم جلد 26 314 سیر روحانی (11) 8 علاوہ ڈچ ، جرمن اور انگریزی زبان میں ان کے پاس لٹریچر بھی اچھا خاصا موجود ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ سپین میں میں نے کرم الہی ظفر کو بھجوایا۔فرانس میں ملک عطاء الرحمن کو بھجوایا۔ہالینڈ میں حافظ قدرت اللہ اور غلام احمد بشیر کو بھجوایا۔پھر مولوی ابوبکر ایوب انڈو نیشین کو بھجوایا۔اسی طرح شیخ ناصر کوسوئٹزرلینڈ میں بھجوایا، ابراہیم خلیل کواٹلی ،رسنلی اور فری ٹاؤن بھجوایا ، شیخ رشید احمد کو ڈچ گی آنا میں بھجوایا اور خلیل ناصر امریکہ میں کام کر رہے ہیں۔پہلے مفتی محمد صادق صاحب کام کرتے تھے۔پھر ماسٹر محمد دین صاحب کام کرتے رہے۔پھر صوفی مطیع الرحمن صاحب بھجوائے گئے۔اب خلیل ناصر کام کر رہے ہیں۔اسی طرح امریکہ میں اور بھی بہت سے مبلغ کام کر رہے ہیں۔غرض اُن کی کتابوں سے زیادہ کتابیں لکھنے کی مجھے توفیق ملی اور پھر ان کتابوں کے ساتھ مبلغ بھیجنے کی جو ضرورت تھی جن کے بغیر کتابیں کوئی کام نہیں دے سکتیں خدا تعالیٰ نے مجھے اس کو پورا کرنے کی بھی توفیق دی۔کیونکہ یورپین لوگ اسلام سے ناواقف ہیں جب تک اُن کو کوئی سمجھانے والا نہ ہو صرف کتاب اُن کے آگے رکھ دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔مگر ہمارے مبلغین نے ان کتابوں کے ذریعہ سے جیسا کہ آپ نے مسٹر بشیر احمد آرچرڈ کا لیکچر سنا ہے یا ملک عزیز احمد صاحب سے سنا ہے وہاں کے حالات ہی بدل دیئے ہیں۔ہمارے مبلغ نے صد ر ا نڈونیشیا مسٹر سو کار نو کو قرآن شریف پیش کیا تھا جس کا فوٹو بھی چھپ گیا تھا۔جب قرآن شریف انہیں پیش کیا گیا تو انہوں نے کھڑے ہوکر اُسے لیا۔اس کو چوما اور پھر اسے سر پر رکھا۔ہمارا مبلغ بھی اُس وقت اُن کے سامنے کھڑا تھا اس کے بعد انہوں نے خود ہی خواہش کی کہ اس کی فہرست مضامین بھی چھاپئے۔چنانچہ وہ فہرست مضامین اب تفسیر صغیر کے ساتھ لگ گئی ہے۔جب اس کا انگریزی میں ترجمہ ہو کر غیر ممالک میں جائے گا تو پھر لوگوں کو پتا لگے کہ مولوی محمد علی صاحب کا انڈیکس اس کے (الفضل 20 فروری 1958ء) مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔“ ,, اس کے بعد فرمایا: آج عورتوں کی طرف سے شکایت پہنچی ہے کہ آٹا نہایت گندا تھا اور روٹیاں کچی