انوارالعلوم (جلد 26) — Page xxxv
انوار العلوم جلد 26 24 تعارف کتب اس جلسہ کے تیسرے روز حضرت مصلح موعود نے بنفس نفیس جلسہ گاہ میں تشریف لا کر بصیرت افروز خطاب فرمایا یہ علالت اور بیماری کے باوجود اسلام کی تبلیغ کا جوش ، ولولہ اور غیرت دینی آپ میں دیدنی تھی۔آپ نے اپنے خطاب کے آغاز میں حاضرین جلسہ کو تبلیغ اسلام کی طرف بلاتے ہوئے دنیا میں ان ممالک کے نام لئے جو ابھی تک اسلامی تبلیغ سے خالی ہیں۔حضور نے اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی اولاد کو بالخصوص اور روحانی اولاد کو بالعموم کھڑا کر کے ساری دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا عہد ان الفاظ میں لیا: " " اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ہم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے۔اور اس مقدس فرض کی تکمیل کے لئے ہمیشہ اپنی زندگیاں خدا اور اس کے رسول کے لئے وقف رکھیں گے۔اور ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کر کے قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچارکھیں گے۔ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظام خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخر دم تک جدو جہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تا کہ قیامت تک خلافتِ احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔اے خدا! تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔اللھم مِيْنَ - اَللَّهُمَّ امِيْنَ - اَللَّهُمَّ مِيْنَ" تبلیغ کی کو اس قدر آپ کے اندر موجود تھی کہ آپ نے اس خطاب میں درج بالا عہد کے علاوہ آئندہ خلفاء کو بھی ان الفاظ میں وصیت فرمائی۔