انوارالعلوم (جلد 26) — Page 295
انوار العلوم جلد 26 295 بے تکلف تھے آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے منارہ کی تعمیر پر ایک لاکھ روپیہ سے کم خرچ نہیں آئے گا اور پھر موجودہ بنیا دوں پر تعمیر نہیں ہوسکتا۔ہمارے نانا جان مرحوم میر ناصر نواب صاحب مینار بنوا ر ہے تھے انہوں نے کہا میں نے بڑی اچھی بنیا د رکھی ہے اس پر مینار بن جائے گا۔میر حسام الدین صاحب کہنے لگے پھر مجھ سے تو یہ کام نہیں ہو سکتا آپ کسی اور سے بنوالیں۔نانا جان کہنے لگے میں یہ مینار بنوا دوں گا اور ان ہی بنیادوں پر بنواؤں گا جو رکھی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میر حسام الدین صاحب سے فرمانے لگے میر صاحب! پھر آپ کا تو یہ منشاء ہے کہ ہم منارہ ہی نہ بنا ئیں۔ایک لاکھ روپیہ تو ہمارے پاس نہیں۔اب دیکھو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صرف دس ہزار روپیه ساری جماعت سے مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک لاکھ روپیہ نہیں لیکن اب یہ حالت ہے کہ ہم اپنی عورتوں سے ایک لاکھ روپیہ کی اپیل کرتے ہیں تو وہ اکٹھا کر دیتی ہیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا میر صاحب ! آپ کی رائے کو مانا جائے تو پھر منارۃ المسیح نہیں بن سکتا اس لئے میں یہ کام میر ناصر نواب صاحب کے سپر د کرتا ہوں۔چنانچہ بعد میں میر صاحب مرحوم نے ہی منارہ کی تعمیر شروع کروائی لیکن یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں نہ ہو سکا بلکہ کچھ مدت تک میرے زمانہ خلافت میں بھی ملتوی رہا۔اس پر میں نے دوبارہ چندہ جمع کیا اور تحریک کی کہ جو دوست ایک ایک سو روپیہ چندہ دیں گے اُن کے نام منارة امسیح پر لکھے جائیں گے اور تعمیر کا کام میں نے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے سپرد کیا۔انہوں نے اجمیر سے سنگ مرمر منگوا کر اس پر پلستر کروایا۔خیال تھا کہ یہ پلستر زیادہ دیر تک نہیں رہے گا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ پلستر چڑھ گیا اور 1947ء میں جب ہم یہاں آئے تو اُس وقت تک بھی بہت تھوڑا پلستر ٹوٹا تھا۔اس موقع پر حضور نے اعلان فرمایا کہ این انٹر پریٹیشن آف اسلام An Interpretation of Islam)ایک کتاب ہے جو پہلے ایک اٹالین پروفیسر نے جو عورت تھی لکھی تھی اور اس کا ترجمہ بھی امریکہ میں ایک اٹالین پروفیسر نے کیا تھا۔اس کتاب کا دیباچہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے لکھا