انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 232

انوار العلوم جلد 26 232 ہر احمد میں عورت احمدیت کی صداقت کا ایک زندہ جیسا کے خوابوں کا طریق ہے۔اس طرح بتا دیا کہ عکرمہ ایک دن اسلام قبول کر کے جنت کے انعامات کا مستحق ہو جائے گا۔تو دشمن کہتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ ابتر ہیں، ان کی نرینہ اولاد نہیں۔لیکن واقعات نے ثابت کر دیا کہ دراصل ابتر آپ کے دشمن ہی تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی جسمانی اولادوں کو اسلام میں داخل کر کے آپ کے قدموں میں ڈال دیا اور انہوں نے بعد میں آپ کے لائے ہوئے دین اور آپ کے نام کو بلند کرنے کیلئے عظیم الشان قربانیاں کیں۔حضرت خالد بن ولید پھر دیکھو ولید آپ کا کس قدر دشمن تھا مگر اس کا بیٹا خالد آپ پر ایمان لایا۔پھر ساری عمر وہ آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر اپنی جان شمار کرتا رہا۔حضرت خالد بھی ایک زمانہ میں اسلام کے شدید دشمن تھے لیکن بعد میں خدا تعالیٰ نے انہیں ہدایت دے دی اور انہوں نے اسلام کے لئے بڑی بھاری قربانیاں کیں۔انہوں نے رومی سلطنت کو شکست دے کر شام کو اسلام کے لئے فتح کیا۔حضرت عمرو بن عاص جن کے دادا اوائل اسلام میں شدید دشمن تھے وہ بھی اسلام لائے اور انہوں نے مصر اور فلسطین کو اسلام کے لئے فتح کیا اور ایسا فتح کیا کہ لوگوں کو ماننا پڑا کہ مصر اسلام کا ایک مضبوط اڈا تھا۔عقبہ اور شیبہ کی اولادوں کا نام مجھے یاد نہیں۔لیکن بہر حال یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی جسمانی اولادیں اُن سے چھین کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی تھیں اور وہ اولادیں بھی بجائے اپنے ماں باپ کا نام بلند کرنے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بلندی کا موجب بنیں۔حالانکہ مشرکین مکہ کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ ان کی تکالیف سے تنگ آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اب آپ طائف کی طرف جائیں گے اور وہاں کے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں گے۔چنانچہ آپ طائف تشریف لے گئے اور آپ کے غلام حضرت زید بن حارثہؓ آپ کے ہمراہ تھے لیکن اہلِ طائف نے خدا تعالیٰ کے پیغام کو ٹھکرا دیا اور آپ کے پیچھے گئے لگا دیئے۔لڑکوں کو اکسایا اور انہوں نے جھولیوں میں پتھر بھر کے آپ پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے نکال دیا۔چنانچہ آپ پھر مکہ کی طرف واپس کو ٹے لیکن عرب کے دستور کے مطابق