انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 230

انوار العلوم جلد 26 230 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک ز چاہتا ہوں کہ کچھ ایسے بہادر نکل آئیں جو تعداد میں اگر چہ تھوڑے ہوں لیکن وہ سر دھڑ کی بازی لگا کر رومی فوج پر رعب ڈال دیں۔حضرت عکرمہ آگے نکلے اور انہوں نے حضرت ابو عبیدہ سے درخواست کی کہ مجھے اپنی مرضی کے مطابق کچھ آدمی چن لینے دیں میں ان آدمیوں کو ساتھ لے کر دشمن کے قلب لشکر پر حملہ کروں گا اور کوشش کروں گا کہ ان کے جرنیل کو مار دوں۔اُس وقت رومی لشکر کا جرنیل خوب زور سے لڑ رہا تھا اور بادشاہ نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں فتح حاصل کر لے تو وہ اپنی لڑکی کی شادی اُس سے کر دے گا اور اپنی آدھی مملکت اس کے سپر د کر دے گا۔اس لالچ کی وجہ۔د - وجہ سے وہ بڑے جوش میں تھا۔اور اپنی ذاتی اور شاہی فوج لے کر میدان میں اترا ہوا تھا اور اس نے سپاہیوں سے بڑی رقوم کا وعدہ کیا ہوا تھا۔چنانچہ رومی سپاہی بھی جان تو ڑ کر لڑ رہے تھے۔جب رومی لشکر نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو وہ جرنیل لشکر کے قلب میں کھڑا تھا۔حضرت عکرمہ نے قریباً چار سو آدمیوں کو لے کر لشکر کے قلب پر حملہ کیا اور ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے اس جرنیل پر حملہ کر کے اُسے نیچے گرا دیا۔مقابلہ میں لاکھوں کا لشکر تھا اور یہ صرف چارسو مسلمان تھے اس لئے مقابلہ آسان نہ تھا۔اس جرنیل کو تو انہوں نے مار دیا اور اس کے مرجانے کی وجہ سے لشکر بھی تتر بتر ہو گیا۔مگر دشمن اُن آدمیوں پر ٹوٹ پڑا اور سوائے چند ایک کے سارے کے سارے شہید ہو گئے 3 ان آدمیوں میں سے 12 شدید زخمی تھے۔جب مسلمان لشکر کو فتح ہوئی تو ان لوگوں کی تلاش شروع ہوئی۔ان 12 زخمیوں میں حضرت عکرمہ بھی شامل تھے۔ایک مسلمان سپاہی آپ کے پاس آیا آپ کی حالت خراب تھی۔اس نے کہا عکرمہ میرے پاس پانی کی چھاگل ہے تم کچھ پانی پی لو۔آپ نے منہ پھیر کر دیکھا تو پاس ہی حضرت عباس کے بیٹے فضل پڑے ہوئے تھے۔وہ بھی بہت زخمی تھے۔عکرمہ کہنے لگے میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ جن لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس وقت مدد کی جب میں آپ کا شدید مخالف تھا وہ اور ان کی اولا دتو پیاس کی وجہ سے مرجائے اور میں پانی پی کر زندہ رہوں پہلے انہیں پانی پلاؤ۔اگر کچھ بچ جائے تو پھر میرے پاس لے آنا۔چنانچہ وہ مسلمان فضل کے پاس گیا۔انہوں نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کیا اور کہا پہلے