انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 227

انوار العلوم جلد 26 227 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا ایک ز اور جس شخص نے رسول کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا ہو اُس کی خلافت کے متعلق چاہے کتنے ہی شکوک ہوں بہر حال اس سے اتنا تو واضح ہو جاتا ہے کہ اس نے آپ کا روحانی فرزند ہونا تسلیم کیا ہے۔پھر اسی معاویہ کی نسل نے گیارہ سو سال تک ہسپانیہ میں اسلام کی حکومت قائم رکھی۔اور یہ حکومت اتنی عظیم الشان تھی کہ ایک وقت سا را یورپ اس سے ڈرتا تھا۔گویا حضرت معاویہؓ نے نہ صرف خود اسلام کی خدمات بجالائیں بلکہ اس کی اولاد کے ذریعہ بھی اسلام کو عروج نصیب ہوا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کی بیوی اُم حبیبہ نے جو ابو سفیان کی بیٹی تھیں اپنے بھائی معاویہ کا سرا اپنی گود میں رکھا ہوا ہے اور اسے پیار کر رہی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ شرما گئیں اور انہوں نے حضرت معاویہؓ کو الگ کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام حبیبہ ! کیا تم معاویہ سے پیار کر رہی تھیں ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ ! معاویہ میرا بھائی ہے۔آپ نے فرمایا جو تمہیں پیارا ہے وہ ہمیں بھی پیارا ہے۔اس طرح گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کو ایک رنگ میں اپنا بیٹا قرار دے دیا۔یہ تو اسلام کے ایک دشمن کا حال ہوا۔یعنی ابوسفیان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر وقت لڑتا رہتا تھا اُس کی ایک بیٹی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئی اور اُس کے بیٹے معاویہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رنگ میں اپنا بیٹا قرار دے دیا۔پھر وہ آپ پر ایمان بھی لایا۔اور نہ صرف آپ کی زندگی میں بلکہ بعد میں بھی اسلام کی بڑی خدمات بجالایا۔پھر ابو جہل جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا شدید دشمن تھا اُس کی یہ حالت ہوئی کہ خود اُسی کی اولاد نے چاہا کہ وہ اپنی بہن حضرت علیؓ سے بیاہ دیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہ دی۔آپ نے فرمایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی بیٹی اور اس کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں اکٹھی ہوں۔میں دوسری شادی میں روک نہیں بنتا۔علی کو اختیار ہے کہ اگر