انوارالعلوم (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 752

انوارالعلوم (جلد 26) — Page 226

انوار العلوم جلد 26 226 ہر احمدی عورت احمدیت کی صداقت کا کی کوئی نرینہ اولاد نہیں جس کے آپ باپ کہلا سکیں مگر خدا تعالیٰ آپ کی روحانی اولا د کو قیامت تک جاری رکھے گا جو ہمیشہ آپ کے کام کو جاری رکھے گی اور آپ کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاتی رہے گی۔جس کے مقابلہ میں صرف جسمانی اولاد کا میسر آ جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جسمانی اولا د بعض اوقات انسان کیلئے ہزاروں دقتوں اور مصیبتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بجائے اس کے کہ اس کی اولاد کی وجہ سے باپ کی عزت ہواس کی ذلت اور رسوائی ہوتی ہے۔پس صرف جسمانی اولاد کا میسر آجانا کوئی بڑی کامیابی نہیں۔ہاں اگر کسی کو روحانی اولا دل جائے اور وہ اس کے نام اور کام کو دنیا میں پھیلائے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی کہلائے گی۔اور ایسا شخص ہر عقلمند انسان کی نگاہ میں صاحب اولاد کہلائے گا۔پس خدا تعالیٰ مُشرکین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اِس سورۃ میں فرماتا ہے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نرینہ اولاد نہیں تو اس کی وجہ سے آپ ابتر نہیں کہلا سکتے کیونکہ جسمانی اولاد کے متعلق یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ باپ کی عزت کا موجب ہو بلکہ بسا اوقات وہ ان کی ذلت کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔اس لئے ہم آپ کو روحانی بیٹے عطا کریں گے جو آپ کے نام کو روشن کرنے والے اور آپ کے کام کو جاری رکھنے کا باعث ہوں گے اور آپ کے مقابل پر آپ کا دشمن اس قسم کی اولاد سے ہمیشہ کیلئے محروم رہے گا۔کفار کی اولاد کی قربانیاں دشمن کے ہاں روحانی بیٹے نہ ہونے کا ثبوت تو اس بات سے مل جاتا ہے۔کہ روحانی بیٹا وہی ہوتا ہے جو اپنے باپ کے مذہب پر چلے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے دشمنوں میں سے ابو جہل ، عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ وغیرہ ہی تھے۔یہ لوگ آپ کو دکھ دیا کرتے تھے۔اسی طرح آپ کا ایک اور دشمن ابوسفیان تھا جو ایک لمبا عرصہ آپ کے خلاف لڑتا رہا لیکن فتح مکہ کے بعد وہ مسلمان ہو گیا۔ان سب دشمنوں میں سے ابوسفیان کا تو یہ حال ہوا کہ وہ نہ صرف خود اپنی آخری عمر میں اسلام لے آیا بلکہ اس کا بیٹا معاویہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور نہ صرف ایمان لایا بلکہ اس نے حضرت علیؓ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہونے کا بھی دعوی کیا۔