انوارالعلوم (جلد 26) — Page 121
انوار العلوم جلد 26 121 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت آئے تھے۔اسی طرح تعمیر کی اور باتیں بھی ہوئیں۔پھر حفیظ صاحب نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چند روز ہوئے میاں عبدالرحیم احمد صاحب کی کوٹھی پر ایک دعوت تھی۔اُس میں ہمارے خاندان کے حضرت خلیفہ اول کے خاندان سے تعلقات کی بناء پر میں بھی مدعو تھا۔ڈاکٹر عبدالحق صاحب اور میاں نعیم احمد صاحب بھی شامل تھے۔میاں عبدالمنان صاحب مجھے مخاطب کر کے باتیں کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ کہتے " کیا حفیظ صاحب ایسا نہیں؟ کیا حفیظ صاحب ایسا نہیں؟۔“ (یعنی خلاف باتیں کرتے تھے) میاں عبدالرحیم احمد صاحب کبھی آتے اور کبھی جاتے تھے۔جب آتے تو میاں عبدالمنان صاحب کو مخاطب کر کے کہتے "میاں صاحب! اس شریف آدمی کا ایمان کیوں خراب کرتے ہیں؟ یہ باتیں حفیظ صاحب نے بیان کرنے کے بعد خاکسار کو کہا " چودھری صاحب! آپ اپنی نمازوں میں سلسلہ کی ترقی کے لئے خاص طور پر دعائیں کیا کریں۔آئندہ آنے والے ایام مجھے بہت خطرناک نظر آ رہے ہیں۔میرے پوچھنے پر کہ میاں عبدالمنان صاحب کیا باتیں کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وہ باتیں بتانے والی نہیں بہت خطرناک ہیں۔“ اس کے بعد چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی سفارش سے میاں عبدالمنان صاحب کو امریکہ جانے کا موقع ملا اور اس پروپیگنڈا نے اور شدت پکڑ لی اور یہ کہا جانے لگا کہ ساری جماعت میں میاں عبدالمنان جیسا کوئی لائق آدمی نہیں۔انہوں نے مسند احمد کی تبویب جیسا عظیم الشان کام کیا ہے۔حالانکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ تبویب کا ایک حصہ خود حضرت خلیفہ اول نے کیا ہوا تھا اور ان کا قلمی نسخہ لائبریری میں موجود تھا۔5 جون 1950ء کو مولوی عبدالمنان نے یہ فہرست لائبریری سے مستعار لی اور کچھ لوگوں کی مدد سے اس میں کچھ زیادتی کر کے اسے اپنی طرف منسوب کر لیا۔پس کچھ حصہ اس کام کا خود حضرت خلیفہ اول کر چکے تھے باقی حصہ