انوارالعلوم (جلد 26) — Page 119
انوار العلوم جلد 26 119 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت ربوہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت میاں منور احمد صاحب کے دستخطوں کی شناخت کروں جو انہوں نے کسی غلط تعمیر کے سلسلہ میں کمیٹی کے قواعد کے تحت مولوی عبدالمنان صاحب کو دیئے تھے۔چنانچہ فدوی وہاں گیا اور مولوی عبد المنان صاحب نے فرمایا کہ دیکھو یہ دونوں نوٹس موجود ہیں اور دستخط میاں منور احمد صاحب کے ہیں۔ان دونوں میں کتنا تفاوت ہے۔ان میں سے کونسا صحیح ہے اور کون سا غلط؟ ( اُس وقت میرے ساتھ والی کرسی پر چودھری بشیر احمد صاحب نائب وکیل المال تحریک جدید بھی تشریف فرما تھے اور ہم دونوں مولوی عبدالمنان صاحب کے سامنے بیٹھے تھے ) بندہ نے عرض کیا کہ چونکہ میں شروع سے کمیٹی میں حضرت میاں منور احمد صاحب کے ماتحت کام کر رہا ہوں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ دونوں دستخط حضرت میاں منور احمد صاحب کے ہیں۔گو ایک چھوٹا ہے اور ایک بڑا لیکن دستخط انہی کے ہیں۔چونکہ اس کا مضمون ذرا مطابق قواعد مقرر الفاظ میں تھا اور زیادہ تر بحث مولوی عبدالمنان صاحب کے مضمون پر تھی غصہ سے بھرے ہوئے الفاظ میں آپ تقریر فرماتے رہے۔آخر میں اُن کے منہ سے حسب ذیل الفاظ ظاہر ہوئے:۔”میاں منور احمد وغیرہ اس لئے سختی کرتے ہیں اور نا جائز کرتے ہیں کہ وہ حضرت صاحب کے لڑکے ہیں یعنی خلیفہ صاحب کے۔جس وقت ڈنڈا میرے ہاتھ میں آیا میں سب کو سیدھا کر دوں گا یا دیکھوں گا۔“ اُس وقت بندہ خاموش ہو کر واپس چلا آیا کیونکہ میاں صاحب بہت غصے میں تھے۔بندہ نے اُسے SERIOUS نہیں لیا۔البتہ جب دفتر کمیٹی میں پہنچا تو وہاں چودھری عبد اللطیف صاحب اوورسیئر اور چودھری عنایت احمد صاحب اکا ؤنٹنٹ و محمد الیاس چپڑ اسی موجود تھے۔میں نے ہنسی کے طور پر چودھری عبداللطیف صاحب اوورسیئر سے کہا کہ آپ نے میاں عبدالمنان صاحب