انوارالعلوم (جلد 26) — Page 78
انوار العلوم جلد 26 78 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت۔ہے۔مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں نے جو اُس وقت ہوشیاری سے مباہلہ والوں کے مکان کی نگرانی کرتے تھے مجھے بتایا کہ انہوں نے ان دونوں کو ان کے مکان کے سامنے کھڑا دیکھا تھا اور انہوں نے ایک خط زاہد کی طرف ایک لڑکے کے ہاتھ بھجوایا ( زاہد مولوی عبدالکریم مباہلہ والے کا چھوٹا بھائی تھا) اور اس لڑکے نے مجھے لا کر دے دیا۔اسی طرح اس کی تردید مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت سابق صوبہ پنجاب کے ایک لڑکے مرزا محمد طاہر کے خط سے بھی ہوتی ہے جو زاہد کے بھانجے ہیں۔اور جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ : میاں عبدالوہاب اور زاہد کے آپس میں "فتنہ مستریان " سے پہلے بڑے گہرے تعلقات تھے ( میں بھی اس کا ذاتی گواہ ہوں۔زاہد چونکہ چھوٹا ہوتا تھا ہمارے گھر میں آیا کرتا تھا۔میری بیویاں اس سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔اس کی بہن بھی ہمارے گھر میں رہتی تھی اس لئے مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ زاہد سے میاں عبدالوہاب کے بڑے گہرے تعلقات تھے اور میاں عبدالوہاب اس سے اکثر ملتا رہتا تھا) پھر مرز امحمد طاہر لکھتے ہیں کہ : زاہد سے میاں عبدالوہاب نے حضور کے خلاف باتیں کی تھیں جس پر زاہد بھی حضور کے خلاف ہو گیا۔زاہد کو اب شکایت یہ تھی کہ جس آدمی نے پہلے حضور کے خلاف باتیں کی تھیں اور فتنہ کی اصل جڑ تھی وہ تو حضرت خلیفہ اول کا لڑکا ہونے کی وجہ سے بچ گیا اور وہ پھنس گیا۔“ اسی طرح ڈاکٹر محمد منیر صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ امرتسر کی شہادت سے بھی ظاہر ہے کہ 1927ء، 1928ء میں میاں عبد المنان اور مولوی علی محمد اجمیری ان سازشوں میں شریک تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔" غالباً 1927 ء یا 1928ء میں جب مباہلہ والوں ڈاکٹر محمد منیر صاحب کی شہادت کا فتنہ زور پر تھا ایک دن اس سلسلہ میں مباہلہ والوں