انوارالعلوم (جلد 26) — Page 66
انوار العلوم جلد 26 66 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت کئی اور صورتوں میں سراٹھایا۔مگر خلافت اُولی قائم ہوگئی اور ساری جماعت حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر جمع ہو گئی۔اب شیطان نے دیکھا کہ جو نئے جھگڑے کی بنیاد میں نے ڈالی تھی وہ بھی ختم ہورہی ہے تو اُس نے ایک نئی طرح ڈالی۔یعنی مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی اور حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے بغض پیدا کر دیا تا کہ یہ سلسلہ ابھی اور لمبا چلتا چلا جائے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا گروہ پھر دنیا کو دین پر مقدم کرنے والے گروہ کے ظلموں کا شکار ہو جائے۔یہ بنیاد اس طرح پڑی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دیکھ کر کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاں پہلی بیوی کے بطن سے کوئی نرینہ اولاد نہیں ، لدھیانہ کے ایک بزرگ صوفی احمد جان صاحب کی ایک لڑکی سے جو اُن کی موجودہ زندہ اولاد کی والدہ تھیں نکاح کروایا۔اس واقعہ کی وجہ سے چاہئے تو یہ تھا کہ یہ دوسری بیوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے خاندان سے زیادہ تعلق رکھتیں جس طرح اُن کے بھائی پیر افتخار احمد صاحب مرحوم اور پیر منظور محمد صاحب مرحوم قاعدہ سرنا القرآن کے موجد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اُن کے خاندان سے والہانہ عشق رکھتے تھے۔مگر ایسا نہیں ہوا۔اس بغض کی بھی کچھ دنیوی وجوہات اول یہ کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاں اس بیوی سے بھی دیر تک کوئی نرینہ اولاد نہ ہوئی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن کو شوق تھا کہ حضرت مولوی صاحب کے ہاں نرینہ اولاد ہو جائے 1896ء میں جبکہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کو آپ نے نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کو قرآن پڑھانے کے لئے مالیر کوٹلہ بھجوایا تھا مولوی صاحب کے متعلق نواب صاحب مرحوم کو ایک خط لکھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کی مالیر کوٹلہ کی ایک سید خاندان کی لڑکی سے شادی کا انتظام کریں۔گو یہ انتظام تو بعد میں رُک گیا مگر ایک خار دل میں بیٹھ گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی دوسری بیوی پر ایک اور سوکن لانے کی کوشش کی ہے۔دوسری وجہ اس بغض کو بڑھانے کی ایک اور پیدا ہوگئی اور وہ یہ تھی کہ میاں عبدالسلام ،