انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 509

انوار العلوم جلد 25 509 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات اور نہ اس طریق پر عمل کیا جو اس نئے احمدی نے اسے بتایا تھا۔اور اخباروں میں شور مچایا جارہا ہے۔بے شک وہ اور اس کے ساتھی اخباروں میں جتنا چاہیں شور مچالیں وہ اتنا شور تو نہیں مچاسکتے جتنا1953ء میں جماعت کے خلاف مچایا گیا تھا۔مگر جو خدا 1953ء میں میری مدد کے لئے دوڑا ہوا آیا تھا وہ خدا آب بڑھا نہیں ہو گیا کہ وہ 1953ء میں دوڑ سکتا تھا اور اب نہیں دوڑ سکتا۔بلکہ وہ اُس وقت بھی دوڑ سکتا تھا اور اب بھی دوڑ سکتا ہے اور قیامت تک دوڑ سکے گا۔جب بھی کوئی شخص احمدیت کو کچلنے کے لئے آگے آئے گا میرا خدا دوڑتا ہوا آجائے گا۔اور جو شخص احمدیت کو مٹانے کے لئے نیزہ مارنے کی کوشش کرے گامیر اخدا اپنی چھاتی اس کے سامنے کر دے گا۔اور تم یہ جانتے ہی ہو کہ میرے خدا کو نیزہ نہیں لگتا۔جو شخص میرے خدا کے سینہ میں نیزہ مارنے کی کوشش کرے گا وہ نیزہ الٹ کر خود اس کے اپنے سینہ میں جاگے گا اور جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنے ایمان کی وجہ سے محفوظ رہتی چلی جائے گی۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ لوگ اپنے ایمان کو قائم رکھیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول سنایا کرتے تھے جب میں بھوپال میں پڑھا کرتا تھا تو وہاں ایک بزرگ تھے جنہیں میں اکثر ملنے جایا کرتا تھا۔نیک آدمی تھے اور مجھے پر انہیں اعتماد تھا۔ایک دن کچھ وقفہ کے بعد میں انہیں ملنے کے لئے گیا تو کہنے لگے میاں! تم سے محبت کرتے ہیں۔جانتے ہو کیوں محبت کرتے ہیں ؟ ہم اس لئے تم سے محبت کرتے ہیں کہ کبھی کبھی تم آجاتے ہو تو خد اتعالیٰ کی باتیں کر لیتے ہیں۔اس کے بعد پھر دنیا کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں لیکن تم بھی کچھ عرصہ سے میرے پاس نہیں آئے۔تم نے کبھی قصاب کی دُکان دیکھی ہے ؟ میں نے کہا ہاں دیکھی ہے۔اُس بزرگ نے کہا تم نے دیکھا نہیں کہ قصاب کچھ دیر گوشت کاٹنے کے بعد دو چھریوں کو آپس میں رگڑ لیتا ہے۔پتہ ہے وہ کیوں اس طرح کرتا ہے ؟ وہ اس لئے ایسا کرتا ہے کہ گوشت کاٹتے کاٹتے چُھری پر چربی جم جاتی ہے۔اور وہ کند ہو جاتی ہے جب وہ اسے دوسری چُھری سے رگڑتا ہے تو چربی صاف ہو جاتی ہے۔اسی طرح جب تم یہاں آتے ہو تو میں تم سے خدا تعالیٰ کی باتیں کرتا ہوں