انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 508

انوار العلوم جلد 25 508 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات دوست ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو اس سے بھی جماعت بڑھ سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے گھٹنوں پر سے سر اٹھایا اور فرمایا حضور! میں تو آپ کا حکم ماننے کے لئے تیار ہوں لیکن اس عمر میں مجھے کوئی شخص اپنی لڑکی دینے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہنس پڑے۔تو دیکھو یہ انکسار اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا ادب تھا جس کی وجہ سے انہیں یہ رتبہ ملا۔آب باوجود اس کے کہ آپ کی اولاد نے جماعت میں فتنہ پیدا کیا ہے لیکن اب بھی جماعت آپ کا احترام کرنے پر مجبور ہے اور آپ کے لئے دعائیں کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں اس انکسار اور محبت کی جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھی وہ عظمت ڈالی ہے کہ باوجود اس کے کہ آپ کے بیٹوں نے مخالفت کی ہے پھر بھی ان کے باپ کی محبت ہمارے دلوں سے نہیں جاتی، پھر بھی ہم انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے کیونکہ انہوں نے اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ، حضرت می موز کو ماناجب ساری دنیا آپ کی مخالف تھی۔اسی طرح آج کل ضلع جھنگ کے بعض نئے احمدی ہوئے ہیں۔اُن میں ایک مولوی عزیز الرحمن صاحب ہیں جو عربی کے بڑے عالم ہیں اور ان کا ایک عربی قصیدہ الفضل میں بھی چھپ چکا ہے۔ان کے والد جو اپنے بیٹے کی طرح عالم نہیں وہ یہاں آئے۔وہ کہیں جارہے تھے تو کسی نے میاں عبد المنان کو آتاد یکھ کر انہیں بتایا کہ وہ میاں عبد المنان ہیں۔اس پر وہ دوڑتے ہوئے اس کے پاس پہنچے اور کہنے لگے میاں تیرے باپ کواس در سے خلافت ملی تھی۔اب تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو بھاگ رہا ہے پھر پنجابی میں کہا کہ جا اور جاکر معافی مانگ۔عبد المنان نے کہا بابا جی ! میں نے تو معافی مانگی تھی۔وہ کہنے لگے اس طرح نہیں تو جا کر ان کی دہلیز پر بیٹھ جا اور وہاں سے ہل نہیں۔تجھے دھکے مار کر بھی وہاں سے نکالنا چاہیں تو اُس وقت تک نہ اُٹھ جب تک تجھے معافی نہ مل جائے مگر عبد المنان نے اس نو احمدی کی بات بھی نہ مانی۔پھر میں نے بھی مری میں خطبہ دیا اور معافی کا طریق بتایا لیکن اُس نے نہ تو اس طریق پر عمل کیا جو میں نے خطبہ میں بیان کیا تھا