انوارالعلوم (جلد 25) — Page 480
480 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات انوار العلوم جلد 25 نے چاہا کہ وہ انہیں احمدیت کی تبلیغ کریں۔حکیم الہ دین صاحب بڑے رُعب والے تھے وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے تو کل کا بچہ ہے اور مجھے تبلیغ کرنے آیا ہے ؟ تو احمدیت کو کیا سمجھتا ہے ؟ میں اسے خوب سمجھتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب نے اپنی مشہور کتاب براہین احمدیہ یہ لکھی جس سے اسلام تمام مذاہب پر غالب ثابت ہو تا تھا مگر مولویوں نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔حضرت مرزا صاحب کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا اچھا تم بڑے عالم بنے پھرتے ہو، میں حضرت عیسی علیہ السلام کو قرآن کریم سے فوت شدہ ثابت کر دیتا ہوں تم اسے زندہ ثابت کر کے دکھاؤ۔گویا آپ نے یہ مسئلہ ان مولویوں کو ذلیل کرنے کے لئے بیان کیا تھا ورنہ در حقیقت آپ کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔پھر حکیم صاحب نے ایک گندی گالی دے کر کہا کہ مولوی لوگ پور ازور لگا چکے ہیں مگر حضرت مرزا صاحب کے مقابلہ میں ناکام رہے ہیں۔اس کا اب ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ ہے کہ سب مل کر حضرت مرزا صاحب کے پاس جائیں اور کہیں ہم آپ کو سب سے بڑا عالم تسلیم کرتے ہیں۔ہم ہارے اور آپ جیتے۔اور اپنی پگڑیاں ان کے پاؤں پر رکھ دیں اور درخواست کریں کہ اب آپ ہی قرآن کریم سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت کر دیں۔ہم تو پھنس گئے ہیں۔اب معافی چاہتے ہیں اور آپ کو اپنا استاد تسلیم کرتے ہیں۔اگر مولوی لوگ ایسا کریں تو دیکھ لینا حضرت مرزا صاحب نے قرآن کریم میں سے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ ثابت کر دینا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ عظمت دی ہے کہ آپ کے مقابلہ میں اور کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو کیونکہ اگر وہ جماعت میں بڑا ہے تو آپ کی غلامی کی وجہ سے بڑا ہے۔آپ کی غلامی سے باہر نکل کر اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔مجھے یاد ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب چشمہ معرفت لکھی تو کسی مسئلہ کے متعلق آپ کو خیال پیدا ہوا کہ آپ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی بھی کوئی کتاب پڑھ لیں اور دیکھیں کہ انہوں نے اس کے متعلق کیا لکھا ہے۔آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا محمود ! ذرا مولوی صاحب کی کتاب تصدیق براہین احمدیہ لاؤ اور مجھے سناؤ۔