انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 479

انوار العلوم جلد 25 479 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات حالانکہ کلیدی عہدے انہی کے پاس ہیں ہمارے پاس نہیں۔یہ سب طاقت خلافت کی وجہ سے ہے۔خلافت کی وجہ سے ہی ہم اکٹھے رہے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔اب اس فتنہ کو دیکھو جو 1953ء کے بعد جماعت میں اٹھا۔اس میں سارے احراری فتنہ پردازوں کے ساتھ ہیں۔تمہیں یاد ہے کہ 1934ء میں بھی احراری اپنا سارا زور لگا چکے ہیں اور بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور اس دفعہ بھی وہ ضرور ناکام ہوں گے۔اس دفعہ اگر انہوں نے یہ خیال کیا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی اولاد ان کے ساتھ ہے اس لئے وہ جیت جائیں گے تو انہیں جان لینا چاہیے کہ جماعت کے اندر اتنا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کے مقابلہ میں خواہ کوئی اٹھے جماعت احمد یہ اس کا کبھی ساتھ نہیں دے گی۔کیونکہ انہوں نے دلائل اور معجزات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے۔ان میں سے ہر شخص نے اپنے اپنے طور پر تحقیقات کی ہے۔کوئی گوجر انوالہ میں تھا، کوئی گجرات میں تھا، کوئی شیخوپورہ میں تھا، وہاں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پہنچیں اور آپ کے دلائل نقل کر کے بھجوائے گئے تو وہ لوگ ایمان لے آئے۔پھر ایک دھاگا میں پروئے جانے کی وجہ سے انہیں طاقت حاصل ہو گئی۔اب دیکھ لو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہی طاقت تھی کہ آپ نے اعلان فرما دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔بس حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے ساری عیسائیت مر گئی۔اب یہ کتنا صاف مسئلہ تھا مگر کسی اور مولوی کو نظر نہ آیا۔سارے علماء کتابیں پڑھتے رہے لیکن ان میں سے کسی کو یہ مسئلہ نہ سُوجھا اور وہ حیران تھے کہ عیسائیت کا مقابلہ کیسے کریں۔حضرت مرزا صاحب نے آکر عیسائیت کے زور کو توڑ دیا اور وفات مسیح کا ایسا مسئلہ بیان کیا کہ ایک طرف مولویوں کا زور ٹوٹ گیا تو دوسری طرف عیسائی ختم ہو گئے۔بھیرہ میں ایک غیر احمدی حکیم الہ دین صاحب ہوتے تھے۔وہ اپنے آپ کو حضرت خلیفہ المسیح الاول سے بھی بڑا حکیم سمجھتے تھے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک صحابی حکیم فضل دین صاحب انہیں ملنے کے لئے گئے اور انہوں