انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 26

انوار العلوم جلد 25 26 سیر روحانی (8) دنیوی اور روحانی ڈائری نویسوں میں امتیاز غرض قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہمارے سلسلہ ء روحانیہ میں بھی ڈائری نویس ہیں لیکن وہ عام ڈائری نویسوں کی طرح جیسا کہ دنیوی حکومتوں میں ہوتا ہے غریب نہیں ہوتے ، چھوٹی تنخواہوں والے نہیں ہوتے کہ اُن کو رشوت خوری کی ضرورت ہو بلکہ اعلیٰ پایہ کے لوگ ہوتے ہیں وہ اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوتے ہیں۔ان کو نہ کوئی خوشامد سے منا سکتا ہے، نہ رشوت دے سکتا ہے، نہ کسی کی کوئی دشمنی اس بات کا موجب ہو سکتی ہے کہ وہ غلط رپورٹ کریں بلکہ اُن کی ہر ایک رپورٹ اور ہر ایک کام سیچ کے ساتھ ہوتا ہے اور باوجود اس کے کہ وہ بڑے دیانتدار ہیں، بڑے بچے ہیں، بڑے راستباز ہیں، وہ اتنے محتاط ہیں کہ صرف اپنے حافظہ پر بات نہیں رکھتے جو بڑا مکمل حافظہ ہے بلکہ وہ ساتھ ساتھ لکھتے بھی چلے جاتے ہیں گویا اس احتیاط کو وہ دوگنی کر لیتے ہیں۔دنیا میں ڈائریاں لکھنے کا غلط طریق دنیا میں ہم دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ دنیوی ڈائری نو سپس کئی قسم کی غلطیاں کر جاتے ہیں کیونکہ وہ ہر وقت ساتھ نہیں رہتے۔مثلاً تمام گور کمنٹیں پولیس مقرر کرتی ہیں مگر جتنی بڑی سے بڑی منظم گور کمنٹیں ہیں وہ اتنے ڈائری نویس مقرر نہیں کر سکتیں کہ ہر آدمی کے ساتھ ساتھ ڈائری نویس پھرے۔اگر ملک کے سپاہیوں کی تعداد دیکھی جائے اور ادھر آدمیوں کی تعداد د یکھی جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ اگر ایک کروڑ آدمی ہے تو شاید پولیس تین چار ہزار ہو اور وہ تین چار ہزار بھی سارے ڈائری نویس ہی نہیں ہونگے بلکہ اُن میں سے اکثر وہ ہونگے جن کا کوئی اور کام مقرر ہو گا۔مثلاً یہ کہ رستوں کی حفاظت کرنی ہے یا انہیں کسی جگہ پر ریز رور کھا ہوا ہو گا۔کوئی جھگڑایا فساد ہوا تو وہ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔سٹینو اور ڈائریاں لکھنے والے میرے خیال میں سارے صوبہ میں جس کی دو تین کروڑ آبادی ہو دو تین سو ہی نکلیں گے۔اب اگر دو تین کروڑ کی آبادی میں ایک کروڑ پر سو آدمی ہے۔یا فرض کر لو ایک کروڑ پر ہزار بھی آدمی ہے تب بھی دس ہزار آدمیوں پر ایک ہوا۔اور دس ہزار آدمی پر جو ایک شخص مقرر ہے وہ ہر ایک کا نامہ اعمال نہیں لکھ سکتا