انوارالعلوم (جلد 25) — Page 450
انوار العلوم جلد 25 450 قرون اولیٰ کی مسلمان خو عورتوں کی قربانی مردوں سے زیادہ تھی۔جب مرد حکومت کی گرفت سے ڈر گئے تو عور تیں نہیں ڈریں وہ ہر جگہ پولیس اور فوج کے پہرہ کو چیرتی ہوئی حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس پہنچ جاتیں اور آپ کے قدموں میں بیٹھ کر دین کی تعلیم حاصل کر تیں۔غرض ہر مذہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ عورتوں نے بڑا کام کیا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ برلن کی مسجد کی تحریک ہوئی تو اُس وقت کی احمدی عورتوں نے ایک ماہ کے اندر اندر ایک لاکھ روپیہ جمع کر دیا۔اب تم ہیگ کی مسجد کے لئے کوشش کر رہی ہو مگر افسوس کہ تم اتنی کوشش نہیں کر رہیں جتنی 1920ء میں برلن کی مسجد کے لئے عورتوں نے کی تھی۔حالانکہ اس وقت تم اُن سے پندرہ بیس گنا زیادہ ہو۔انہوں نے اُس وقت ایک لاکھ روپیہ دے دیا تھا مگر تم نے ابھی ستر ہزار روپیہ جمع کیا ہے اور پھر اُن کے جمع کر دہ چندہ سے برلن میں جو زمین خریدی گئی تھی وہ جب بیچی گئی تو پچاس ہزار روپیہ اصل قیمت سے زیادہ ملا اور اس روپیہ سے لنڈن کی مسجد بن گئی۔گویا لنڈن کی مسجد بھی انہیں عورتوں کے روپیہ سے بنی ہے۔برلن میں مسجد تعمیر نہیں کی جاسکی تھی کیونکہ جرمن حکومت نے بعض ایسی شرائط لگادی تھیں جن کی وجہ سے مسجد کی تعمیر پر بہت زیادہ روپیہ خرچ آتا تھا۔اس لئے ہم نے وہاں مسجد کے لئے جو جگہ خرید کی تھی اُسے بیچ دیا اور جو روپیہ بچا اس سے لنڈن کی مسجد بنائی گئی۔گویا برلن کی مسجد کے لئے بھی عورتوں نے چندہ دیا، لنڈن کی مسجد بھی انہی کے روپیہ سے بنی اور ہیگ کی مسجد کے لئے بھی عورتیں ہی روپیہ جمع کر رہی ہیں۔مرد بھی تک ہیمبرگ کی مسجد کے لئے بھی روپیہ جمع نہیں کر سکے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت گو بظاہر کمزور نظر آتی ہے مگر جب وہ قربانی پر آجائے تو مرد سے زیادہ قربانی کرتی ہے۔دیکھ لوماں جتنی قربانی اپنے بچے کے لئے کرتی ہے اس قدر قربانی مرد نہیں کر سکتا۔میں نے بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک عورت کے بچہ کو عقاب اُٹھا کر لے گیا اور عقاب نے اس بچہ کو ایک پہاڑی کی چوٹی پر رکھ دیا۔وہ پہاڑی ایسی سیدھی تھی کہ اُس پر کوئی چڑھ نہیں سکتا تھا لیکن ماں نے جب دیکھا کہ عقاب نے اس کا بچہ اس پہاڑی کی چوٹی پر رکھ دیا ہے تو وہ پاگلوں کی طرح اس پہاڑی پر چڑھ گئی اور اُسے پتہ بھی نہ لگا کہ وہ