انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 399

انوار العلوم جلد 25 399 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات کے حالات کے لحاظ سے میں نے جماعت کے فتنہ پردازوں کا ذکر کیا ہے لیکن اس موقع کے زیادہ مناسب حال آج کا خطبہ جمعہ تھا جس میں میں نے خدمتِ خلق پر زور دیا ہے۔خدام الاحمدیہ نے پچھلے دنوں ایسا شاندار کام کیا تھا کہ بڑے بڑے مخالفوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کی یہ خدمت بے نظیر ہے۔تم اس خدمت کو جاری رکھو اور اپنی نیک شہرت کو مد ہم نہ ہونے دو۔جب بھی ملک اور قوم پر کوئی مصیبت آئے سب سے آگے خدمت کرنے والے خدام الاحمدیہ کو ہونا چاہئے۔یہاں تک کہ سلسلہ کا شدید سے شدید دشمن بھی یہ مان لے کہ در حقیقت یہی لوگ ملک کے بچے خادم ہیں، یہی لوگ غریبوں کے ہمدرد ہیں، یہی لوگ مسکینوں اور بیواؤں کے کام آنے والے ہیں۔یہی لوگ مصیبت زدوں کی مصیبت کو دور کرنے والے ہیں۔تم اتنی خدمت کرو کہ شدید سے شدید دشمن بھی تمہارا گہر ا دوست بن جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا سلوک کرو کہ تمہارا دشمن بھی دوست بن جائے۔یہی خدام الاحمدیہ کو کرنا چاہئے۔اگر تمہارے کاموں کی وجہ سے تمہارے علاقہ کے لوگ تمہارے بھی اور تمہارے احمدی بھائیوں کے بھی دوست بن گئے ہیں، تمہارے کاموں کی قدر کرنے لگ گئے ہیں اور تم کو اپنا سچا خادم سمجھتے ہیں اور اپنا مددگار سمجھتے ہیں تو تم سچے خادم ہو۔اور اگر تم یہ روح پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو تمہیں ہمیشہ استغفار کرنا چاہئے کہ تمہارے کاموں میں کوئی کمی رہ گئی ہے جس کی وجہ سے تم لوگوں کے دلوں میں اثر پیدا نہیں کر سکے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کی مدد کرے۔“ (الفضل 24 اپریل 1957ء)