انوارالعلوم (جلد 25) — Page 398
انوار العلوم جلد 25 398 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات طرف توجہ دلاتا ہوں۔ان کو یاد رکھو اور اپنی جگہوں پر واپس جا کر اپنے بھائیوں اور دوستوں کو بھی سمجھاؤ کہ زبانی طور پر وفاداری کا عہد کرنے کے کوئی معنی نہیں۔اگر تم واقعی وفادار ہو تو تمہیں منافقوں کا مقابلہ کرنا چاہئے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔کیونکہ انہوں نے لا يَأْلُونَكُم خَبَالا والی بات پوری کر دی ہے اور وہ جماعت میں فتنہ اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔قرآن کریم کی ہدایت یہی ہے کہ ان سے مخفی طور پر اور الگ ہو کر بات نہ کی جائے اور اس پر تمہیں عمل کرنا چاہئے تا کہ تم شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جاؤ۔ورنہ تم جانتے ہو کہ شیطان حضرت حوا کی معرفت جنت میں گھس گیا تھا اور جو شیطان حضرت حوا کی معرفت جنت میں گھس گیا تھا وہ جماعت احمد یہ میں کیوں نہیں گھس سکتا۔ہاں اگر تم کو حضرت آدم والا قصہ یادر ہے تو تم اس سے بچ سکتے ہو۔بائبل کھول کر پڑھو تمہیں معلوم ہو گا کہ شیطان نے دوست اور خیر خواہ بن کر ہی حضرت آدم اور حوا کو ورغلایا تھا۔اسی طرح یہ لوگ بھی دوست اور ظاہر میں خیر خواہ بن کر تمہیں خراب کر سکتے ہیں لیکن اگر تم قرآنی ہدایت پر عمل کرو تو تم محفوظ ہو جاؤ گے اور شیطان خواہ کسی بھیس میں بھی آئے تم اس کے قبضہ میں نہیں آؤ گے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو ہمیشہ خلافت کا خدمت گزار رکھے اور تمہارے ذریعہ احمد یہ خلافت قیامت تک محفوظ چلی جائے۔اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت ہوتی رہے۔اور تم اور تمہاری نسلیں قیامت تک اس کا جھنڈا اونچار کھیں۔اور کبھی بھی وہ وقت نہ آئے کہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں تمہارا یا تمہاری نسلوں کا حصہ نہ ہو۔بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے تمہارا اور تمہاری نسلوں کا اس میں حصہ ہو۔اور جس طرح پہلے زمانہ میں خلافت کے دشمن ناکام ہوتے چلے آئے ہیں تم بھی جلد ہی سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں ان کو نا کام ہوتا دیکھ لو۔“ اس کے بعد حضور نے عہد دہرایا اور دعا کروائی۔دعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے ارشار فرمایا کہ:۔وو واپس جانے سے پہلے میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت موجودہ زمانہ