انوارالعلوم (جلد 25) — Page 395
انوار العلوم جلد 25 395 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات اخراجات چھیاسٹھ ہزار روپے ہوتے ہیں۔گویا ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ماہوار۔ہم حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔وہ مامور من اللہ تھے اور اس لئے آئے تھے کہ دنیا کو ہدایت کی طرف لائیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا کے کونہ کونہ میں قائم کریں اور مسلمانوں کی غفلتوں اور مستیوں کو دور کر کے انہیں اسلامی رنگ میں رنگین کریں۔لیکن ان کی زندگی میں جماعتی اخراجات پندرہ سو روپیہ پر پہنچتے ہیں تو گھبر ا جاتے ہیں اور خیال فرماتے ہیں کہ یہ اخراجات کہاں سے مہیا ہوں گے۔لیکن اس وقت ہم جو آپکی جوتیاں جھاڑنے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں صرف ایک درسگاہ یعنی جامعتہ المبشرین پر ساڑھے پانچ ہزار روپے ماہوار خرچ کر رہے ہیں۔اسی طرح مرکزی دفاتر اور بیرونی مشنوں کو ملا لیا جائے تو ماہوار خرچ ستر اسی ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔گویا آپ کے زمانہ میں جو خرچ پانچ سات سال میں ہو تا تھاوہ ہم ایک سال میں کرتے ہیں اور پھر بڑی آسانی سے کرتے ہیں۔اسی طرح یہ خلافت کی ہی برکت ہے کہ تبلیغ اسلام کا وہ کام جو اس وقت دنیا میں اور کوئی جماعت نہیں کر رہی صرف جماعت احمد یہ کر رہی ہے۔مصر کا ایک اخبار الفتح ہے۔وہ ہماری جماعت کا سخت مخالف ہے مگر اس نے ایک دفعہ لکھا کہ جماعت احمدیہ کو بے شک ہم اسلام کا دشمن خیال کرتے ہیں لیکن اس وقت وہ تبلیغ اسلام کا جو کام کر رہی ہے گزشتہ تیرہ سو سال میں وہ کام بڑے بڑے اسلامی بادشاہوں کو بھی کرنے کی توفیق نہیں ملی۔جماعت کا یہ کارنامہ محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اور تمہارے ایمانوں کی وجہ سے ہے۔آپ کی پیشگوئیاں تھیں اور تمہارا ایمان تھا۔جب یہ دونوں مل گئے تو خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہونی شروع ہوئیں اور جماعت نے وہ کام کیا جس کی توفیق مخالف ترین اخبار الفتح کے قول کے مطابق کسی بڑے سے بڑے اسلامی بادشاہ کو بھی آج تک نہیں مل سکی۔اب تم روزانہ پڑھتے ہو کہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم اور بھی ترقی کرو گے اور اُس وقت تمہارا چندہ ہیں پچیس لاکھ سالانہ نہیں ہو گا بلکہ کروڑ، دو کروڑ،