انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 394

انوار العلوم جلد 25 394 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات غرض خدا تعالیٰ نے اس آیت میں جماعتی نظام کی مضبوطی کے لئے ایک اہم نصیحت بیان فرمائی ہے تمہیں یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے اور اس کے مطابق اپنے طریق کو بدلنا چاہئے ورنہ احمدیت آئندہ تمہارے ہاتھوں میں محفوظ نہیں ہو سکتی۔تم ایک بہادر سپاہی کی طرح بنو۔ایسا سپاہی جو اپنی جان ، اپنا مال، اپنی عزت اور اپنے خون کا ہر قطرہ احمدیت اور خلافت کی خاطر قربان کر دے اور کبھی بھی خلافتِ احمد یہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جانے دے جو پیغامیوں یا احراریوں وغیرہ کے زیر اثر ہوں۔جس طرح خدا تعالیٰ نے بائیبل میں کہا تھا کہ سانپ کا سر ہمیشہ کچلا جائے گا اسی طرح تمہیں بھی اپنی ساری عمر فتنہ وفساد کے سانپ کے سر پر ایڑی رکھنی ہو گی اور دنیا کے کسی گوشہ میں بھی اسے پینے کی اجازت نہیں دینی ہو گی۔اگر تم ایسا کرو گے تو قرآن کریم کہتا ہے خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور خدا تعالیٰ سے زیادہ سچا اور کوئی نہیں۔دیکھو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جماعت کو کس قدر مدد دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالانہ ہوا اس میں چھ سات سو آدمی تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے عہد خلافت کے آخری جلسہ سالانہ پر گیارہ بارہ سو احمدی آئے تھے۔لیکن اب ہمارے معمولی جلسوں پر بھی دو، اڑھائی ہزار احمدی آ جاتے ہیں اور جلسہ سالانہ پر تو ساٹھ ستر ہزار لوگ آتے ہیں۔اس سے تم اندازہ کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی طاقت دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں لنگر خانہ پر پندرہ سو روپیہ ماہوار خرچ آجاتا تو آپ کو فکر پڑ جاتی اور فرماتے۔لنگر خانہ کا خرچ اس قدر بڑھ گیا ہے اب اتنارو پیہ کہاں سے آئے گا۔گویا جس شخص نے جماعت کی بنیادر کھی تھی وہ کسی زمانہ میں پندرہ سوماہوار کے اخراجات پر گھبراتا تھا۔لیکن اب تمہارا صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ بارہ تیرہ لاکھ کا ہوتا ہے اور صرف ضیافت پر پینتیس چھتیس ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہو جاتا ہے۔پندرہ سو روپیہ ماہوار خرچ کے معنے یہ ہیں کہ سال میں صرف اٹھارہ ہزار روپیہ خرچ ہو تا تھا لیکن اب صرف جامعتہ المبشرین اور طلباء کے وظائف وغیرہ کے سالانہ