انوارالعلوم (جلد 25) — Page 391
انوار العلوم جلد 25 391 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات اس پر ہر ایک پیغامی دستخط کر سکتا ہے کیونکہ اس کا ہر فقرہ پیچ دار طور پر لکھا ہوا ہے اور اسے پڑھ کر ہر پیغامی اور خلافت کا مخالف یہ کہے گا کہ میرا بھی یہی خیال ہے۔غرض قرآن کریم نے واضح کر دیا ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا۔اے مومنو! جو لوگ تمہارے اندر اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں تم ان سے خفیہ میل جول نہ رکھو۔اب دیکھو یہاں دوستی کا ذکر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے بِطَانَة نہ رکھو اور بِطَانَة کے معنے محض تعلق ہوتے ہیں۔اب اگر کوئی ان لوگوں کو گھر میں چھپ کر مل لے اور بعد میں کہدے کہ آپ نے یا صد را مجمن احمدیہ نے کب منع کیا تھا کہ انہیں نہیں ملنا تو یہ درست نہیں ہو گا۔ہم کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے اندر بھی تو غیرت رکھی ہے پھر ہمارے منع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔تمہیں خود اپنی غیرت کا اظہار کرنا چاہیئے۔اگر تم ہمارے منع کرنے کا انتظار کرتے ہو تو اس کے یہ معنے ہیں کہ تمہیں خود قرآن کریم پر عمل کرنے کا احساس نہیں۔دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب لیکھرام نے سلام کیا تو آپ نے یہ نہیں کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دینے سے کب منع فرمایا ہے بلکہ آپ نے سمجھا کہ بے شک اس آیت میں لیکھرام کا ذکر نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے لا يَا دُونَكُم خَبَالاً تو فرما دیا ہے کہ تم ایسے لوگوں سے تعلق نہ رکھو جو تمہارے اندر فساد اور تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔پس گو اس آیت میں لیکھرام کا ذکر نہیں لیکن اس کی صفات تو بیان کر دی گئی ہیں۔انہی صفات سے میں نے اسے پہچان لیا ہے۔جیسے کسی شاعر نے کہا ہے کہ بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش من انداز قدت را می شناسم2 کہ اے شخص اتو چاہے کس رنگ کا کپڑا پہن کر آجائے میں کسی دھوکا میں نہیں آؤں گا کیونکہ میں تیرا قد پہچانتا ہوں۔حضرت مرزا صاحب نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اے لیکھرام !تو چاہے کوئی شکل بنا کر آجائے۔قرآن کریم نے تیری صفت بیان کر دی ہے