انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 390

انوار العلوم جلد 25 390 مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1956ء میں خطابات کہ خلافتِ حقہ صرف اسی نبی کے بعد نہیں ہے جسے نبوت کے ساتھ بادشاہت بھی مل جائے بلکہ اگر کوئی نبی غیر بادشاہ ہو تب بھی اس کے بعد خلافت حقہ قائم ہوتی ہے۔تمہارا صرف یہ لکھنا کہ میں خلافت حقہ کا قائل ہوں ہمارے مطالبہ کو پورا نہیں کرتا ممکن ہے۔تمہاری مراد خلافت حقہ سے یہ ہو کہ جب میں خلیفہ بنوں گا تو میری خلافت خلافت حقہ ہو گی۔یا خلافت حقہ سے تمہاری یہ مراد ہو کہ میں تو اپنے باپ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خلافت کا قائل ہوں۔یا تمہاری یہ مراد ہو کہ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کی خلافت کا قائل ہوں۔بہر حال عبد المنان کو امریکہ سے واپس آنے کے بعد تین ہفتہ تک ان امور کی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ ملی اس کی وجہ یہی تھی کہ اگر وہ لکھ دیتا کہ پیغامی لوگ میرے باپ کو غاصب، منافق اور جماعت کا مال کھانے والے کہتے رہے ہیں، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں تو پیغامی اس سے ناراض ہو جاتے۔اور اس نے یہ امیدیں لگائی ہوئی تھیں کہ وہ ان کی مدد سے خلیفہ بن جائے گا۔اور اگر وہ لکھ دیتا کہ جن لوگوں نے خلافت ثانیہ کا انکار کیا ہے میں انہیں لعنتی سمجھتا ہوں تو اس کے وہ دوست جو اس کی خلافت کا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں اس سے قطع تعلق کر جاتے۔اور وہ ان سے قطع تعلقی پسند نہیں کرتا تھا اس لئے اس نے ایسا جواب دیا جسے پیغام صلح نے بڑے شوق سے شائع کر دیا۔اگر وہ بیان خلافت ثانیہ کی تائید میں ہوتا تو پیغام صلح اسے کیوں شائع کرتا۔اس نے بھلا گزشتہ 42 سال میں کبھی میری تائید کی ہے؟ انہوں نے سمجھا کہ اس نے جو مضمون لکھا ہے وہ ہمارے ہی خیالات کا آئینہ دار ہے اس لئے اسے شائع کرنے میں کیا حرج ہے۔چنانچہ جماعت کے بڑے لوگ جو سمجھدار ہیں وہ تو الگ رہے مجھے کالج کے ایک سٹوڈنٹ نے لکھا کہ پہلے تو ہم سمجھتے تھے کہ شاید کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے لیکن ایک دن میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے پتہ لگا کہ پیغام صلح میں میاں عبد المنان کا کوئی پیغام چھپا ہے تو میں نے ایک دوست سے کہا۔میاں ! ذرا ایک پرچہ لانا۔چنانچہ وہ ایک پرچہ لے آیا۔میں نے وہ بیان پڑھا اور اسے پڑھتے ہی کہا کہ کوئی پیغامی ایسا نہیں جو یہ بات نہ کہدے۔یہ تردید تو نہیں اور نہ ہی میاں عبد المنان نے یہ بیان شائع کر کے اپنی بریت کی ہے۔