انوارالعلوم (جلد 25) — Page 14
انوار العلوم جلد 25 14 سیر روحانی (8) ایسا پرچہ کیوں خریدیں جو حکومت اور ملت سے ٹکراتا ہو۔ایسا پرچہ کیوں نہ خریدیں جو ملت سے بھی نہیں ٹکراتا، حکومت سے بھی نہیں ٹکراتا اور ہمارے ساتھ بھی نہیں ٹکراتا۔اسی طرح لاہور اور پنجاب میں ڈیلی پرچہ اگر کسی نے خریدنا ہی ہے تو کیوں "سول" اور "ملت" خریدے جس کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں۔ہماری پالیسی آخر ہماری پالیسی یہ ہے کہ حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے۔اس کی بھی یہی پالیسی ہے کہ حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ہماری پالیسی یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے افتراق کو دور کیا جائے اور ان کو ٹکڑے ہونے سے روکا جائے۔یہی پالیسی "ملت" اور "سول" کی بھی ہے۔اگر وہ ہماری اس پالیسی کے ساتھ متفق ہیں۔چاہے وہ ہماری جماعت کے نہیں، چاہے وہ ہمارے ساتھ اتفاق نہیں رکھتے لیکن اگر اُن کا زاویہ نگاہ ہمارے ساتھ اس وقت متفق ہو گیا ہے (کل کو مخالف ہو جائیں گے تو پھر دیکھا جائے گا) تو ہم کیوں نہ دوسروں کے مقابل پر ان کو ترجیح دیں۔میں سارے اخبار نہیں پڑھتا اور بھی کئی اخبار ہوں گے جو کہ اس طرح ہمارے ساتھ متفق ہوں۔ہو سکتا ہے کہ وہ شیعوں کے اخبار ہوں۔میں نے ایک شیعہ کا اخبار ایک دو دفعہ پڑھا ہے وہ بھی بڑا معقول پالیسی کا تھا اور اُس میں بھی اتحاد اور اتفاق اور ملک میں امن قائم کرنے والے مضامین تھے۔تو یہ میں مثالیں دیتا ہوں۔ہو سکتا ہے کہ تمہارے علم میں کوئی اور اخبار ہو جو کہ ملک کے لئے مفید ہو ، ہمارے لئے بھی مفید ہو مضر نہ ہو اور ہماری خواہ مخواہ مخالفت نہ کرتا ہو۔پس ایسے اخباروں کو خرید و تا کہ روپیہ اُن لوگوں کی جیبوں میں جائے جو تمہارا گلا کاٹنے کی فکر میں نہ ہوں۔" (الفضل 12 جنوری 1955ء) کوئی جماعت بغیر مرکز کے نہیں ہو سکتی "ایک بات میں کل یہ کمپنی چاہتا تھا کہ جماعت اور باتوں میں تو بڑی بڑی ہوشیاریاں دکھاتی ہے اور بڑی اپنی عقل مندی پر فخر کرتی ہے اور اپنے کام کو لوگوں کے سامنے پیش کرتی ہے لیکن کبھی جماعت نے یہ بھی غور کیا کہ جماعت کے معنی ہوتے ہیں مرکز کے۔کوئی جماعت بغیر مرکز کے نہیں ہو سکتی۔اور مرکز کے