انوارالعلوم (جلد 25) — Page 351
انوار العلوم جلد 25 351 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات (16) احباب جماعت کے نام ” برادران! السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ پچھلے دنوں الفضل میں حاجی نصیر الحق صاحب کی گواہیوں کے سلسلہ میں یہ شائع ہوا تھا کہ گویا اُن کی گواہیاں چودھری اسد اللہ خان صاحب کو تو مل گئی تھیں لیکن انہوں نے میاں بشیر احمد صاحب کے پاس بھجوادی تھیں جنہوں نے اُن کو یہ جواب دیا کہ میں نے عبد الوہاب کو سمجھانے کے لئے میاں عبد المنان کو بھجوایا ہے۔ان بیانات سے یہ اثر پڑا تھا کہ گویا میاں بشیر احمد صاحب انکار کرتے ہیں کہ مجھے چودھری اسد اللہ خاں صاحب کی تحریر نہیں ملی۔میاں بشیر احمد صاحب کا خط نکال کر دیکھا گیا ہے اس میں یہ درج نہیں کہ چودھری سد اللہ خان نے وہ گواہیاں مجھے نہیں بھجوائیں۔بلکہ یہ درج ہے کہ میں نے چودھری اسد اللہ خاں کو ہر گز یہ نہیں کہا کہ میں نے مولوی عبد المنان کو میاں عبد الوہاب کے سمجھانے کے لئے بھیجا۔وہ کہتے ہیں کہ میں ایسا کہہ ہی کس طرح سکتا تھا جبکہ میں مولوی عبد المنان کی اندرونی حالت جانتا تھا۔چنانچہ ان کا اصل فقرہ درج ذیل ہے اور حالات معلومہ کے ہوتے ہوئے میں یہ الفاظ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔“ ”جو کچھ مجھے یاد ہے میں نے ان سے یہ کہا تھا کہ مولوی عبد الوہاب کو بیہودہ بکو اس کی عادت ہے مگر میں تو صرف ربوہ کا امیر ہوں اور شاید میں نے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت صاحب کے ارشاد کے ماتحت یہ معاملہ صدر انجمن احمدیہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یا پھر اس کا تعلق آپ سے ہے جو لاہور کے امیر ہیں۔“ مرزا عبد الحق صاحب امیر جماعت ہائے ویسٹ پاکستان فرماتے ہیں کہ انہیں بھی یہ مسودہ میاں بشیر احمد صاحب نے پڑھنے کو دیا تھا۔پس جہاں تک مسودہ پہنچنے کا سوال ہے یہ بات گواہیوں سے ثابت ہے۔ہاں یہ بات مابه النزاع رہ جاتی ہے کہ میاں بشیر احمد صاحب نے چودھری اسد اللہ خان صاحب سے کیا کہا تھا جو کچھ بھی کہا ہو خدا تعالیٰ پردہ دری پر آ گیا تھا اور میری بیماری کے بڑھنے کے ڈر سے جو بات مجھ سے چھپائی گئی تھی خدا تعالیٰ نے جیسا کہ اُس کی عادت ہے ساری جماعت کے سامنے اسے کھول کر رکھ دیا۔