انوارالعلوم (جلد 25) — Page 350
انوار العلوم جلد 25 350 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات لکھا ہے اور جس کا جواب الفضل میں شائع ہو چکا ہے اپنے خط میں یہ فقرہ لکھا ہے مزید بر آں اگر چہ وہ ( یعنی اللہ رکھا) خدا تعالیٰ کے عذاب کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔مگر ہم بھی حضور کے خفیف سے خفیف اشارے پر ایسے لوگوں کا قلع قمع کرنے کے لئے اپنی زندگیوں کی قربانی دینے سے ذرہ بھر دریغ نہیں کریں گے۔“ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ عبد المنان نے دیدہ دانستہ اپنے ساتھیوں کی امداد کے لئے یہ گھناؤنا اور خبیثانہ فقرہ لکھا ہے۔ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں جنہوں نے ہمیں امن کی تعلیم دی ہے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے روکا ہے۔مگر یہ شخص معلوم ہوتا ہے کہ ابو جہل کے چیلوں میں سے ہے تبھی آمادگی ظاہر کرتا ہے کہ آپ ادنی سا اشارہ کریں تو میں خون ریزی کرنے کے لئے تیار ہوں۔یہ شخص ربوہ میں ناپسندیدہ حرکات کرتا رہا ہے۔اُن حرکات کو تو اس نے سلسلہ کے کارکنوں کے احکام کے مطابق نہ چھوڑا لیکن حرام کام کرنے کے لئے یہ صرف ایک اشارہ کا محتاج ہے۔اس کا باپ اس سے زیادہ مخلص تھا۔یہ بتائے کہ سلسلہ کے اشاروں پر اس کے باپ نے کتنے خون کئے تھے ؟ اگر اس کا باپ اس نیکی سے محروم مر گیا تو کیا یہ شخص اپنے باپ سے زیادہ نیکی کا مدعی ہے؟ میری طرف منسوب کر کے پرائیویٹ سیکر ٹری کا جو جواب چھپا ہے وہ اپنی ذات میں واضح تھا اس میں صاف لکھا ہے کہ ” مجھے ایسی باتیں پسند نہیں۔آپ کی بہن اور بڑا بھائی تو یقیناً مخلص ہیں۔لیکن آپ اپنے باپ کو بے عزت کر رہے ہیں۔“ میرا یہ لکھنا کہ مجھے ایسی باتیں پسند نہیں ہر عقلمند کے لئے کافی تھا۔لیکن چونکہ بعض لوگ سادہ بھی ہو سکتے ہیں۔اور ممکن ہے کہ عبد المنان کی شرارت آمیز تحریر کو نہ سمجھ سکیں اس لئے الفضل کا وہ جواب پڑھ کر جو پرائیویٹ سیکرٹری نے دیا ہے میں نے اوپر کی مزید تشریح لکھ دی ہے تاکہ لوگوں کو پتہ لگ جائے کہ عبد المنان در حقیقت منافقوں کا آلہ کار ہے اور سلسلہ احمدیہ کو جس کا خادم ساری عمر اس کا باپ رہا بد نام کرنا چاہتا ہے۔اگر وہ زندہ ہو تا تو یقیناً اپنے اس بیٹے پر لعنت بھیجتا جو خوں ریز وحشیوں کے قدم بقدم چلنے کا مدعی ہے۔“ کے قدم قدم چلنے کا د ی ہے۔“ (الفضل 12 اگست 1956ء)