انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 313

انوار العلوم جلد 25 313 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات نبوت کا قائل ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں سمجھتا۔اور پیشگوئی کرتا ہے کہ ایک دو سال میں پھر خلافت کا جھگڑا شروع ہو جائے گا۔موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر یہ فقرہ بتاتا ہے کہ یہ جماعت ایک دو سال میں مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔تبھی اسے یقین ہے کہ ایک دو سال میں تیسری خلافت کا سوال پیدا ہو جائے گا اور ہم لوگ خلافت کے مٹانے کو کھڑے ہو جائیں گے اور جماعت کو خلافت قائم کرنے سے روک دیں گے۔خلافت نہ خلیفہ اول کی تھی نہ پیغامیوں کی۔نہ وہ پہلی دفعہ خلافت کے مٹانے میں کامیاب ہو سکے نہ اب کامیاب ہوں گے۔اُس وقت بھی حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے چند افراد پیغامیوں کے ساتھ مل کر خلافت کو مٹانے کے لئے کوشاں تھے۔مجھے خود ایک دفعہ میاں عبد الوہاب کی والدہ نے کہا تھا ہمیں قادیان میں رہنے سے کیا فائدہ۔میرے پاس لاہور سے وفد آیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ اگر حضرت خلیفہ اول کے بیٹے عبدالحی کو خلیفہ بنادیا جاتا تو ہم اس کی بیعت کر لیتے مگر یہ مرزا محمود احمد کہاں سے آ گیا ہم اس کی بیعت نہیں کر سکتے۔وہی جوش پھر پیدا ہوا۔عبدالحی تو فوت ہو چکا اب شاید کوئی اور لڑکا ذہن میں ہو گا جس کو خلیفہ بنانے کی تجویز ہو گی۔خلیفہ خدا تعالیٰ بنایا کرتا ہے۔اگر ساری دنیا مل کر خلافت کو توڑنا چاہے اور کسی ایسے شخص کو خلیفہ بنانا چاہے جس پر خدا راضی نہیں تو وہ ہزار خلیفہ اول کی اولاد ہو اُس سے نوح کے بیٹوں کا سا سلوک ہو گا۔اور اللہ تعالیٰ اس کو اور اسکے سارے خاندان کو اس طرح پیس ڈالے گا جس طرح چگی میں دانے پیس ڈالے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے نوح جیسے نبی کی اولاد کی پروا نہیں کی نہ معلوم یہ لوگ خلیفہ اوّل کو کیا سمجھے بیٹھے ہیں۔آخر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام تھے اور ان کے طفیل خلیفہ اول بنے تھے۔ان کی عزت قیامت تک محض مسیح موعود کی غلامی میں ہے۔بے شک وہ بہت بڑے آدمی تھے مگر مسیح موعود کے غلام ہو کر نہ کہ ان کے مقابل میں کھڑے ہو کر۔قیامت تک اگر ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غلام قرار دیا جائے گا تو ان کا نام روشن رہے گا۔لیکن اگر اس کے خلاف کسی نے کرنے کی جرات کی تو وہ