انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 312

انوار العلوم جلد 25 312 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات یقین کیا کہ اس کو معافی مل چکی ہے) پھر ظہور القمر لکھتے ہیں کہ " میں عید الاضحی سے ایک روز قبل خیبر لاج میں آیا اور منشی فتح دین صاحب سے دریافت کیا کہ عید کی نماز کب ہو گی اور کون پڑھائے گا؟ منشی صاحب نے بتایا کہ ساڑھے آٹھ بجے ہو گی اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پڑھائیں گے ، باہر صحن میں درخت کے ساتھ اعلان بھی لگا ہوا ہے لہذا میں نے واپس جا کر سب دوستوں کو جو مسجد میں تھے نماز کے وقت کی اطلاع دی۔اسی ضمن میں اللہ رکھا مذکور کو بھی بتایا کہ کل نماز ساڑھے آٹھ بجے ہو گی اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نماز پڑھائیں گے تو اس نے جواب دیا کہ " میں ایسوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا" دوسرے روز مولوی محمد صدیق صاحب اسے زبر دستی خیبر لاج لائے اور اسے اپنے ہمراہ نماز کی ادائیگی کے لئے کہا۔اللہ رکھا کہتا تھا کہ میں پیغامیوں کی مسجد میں نماز پڑھوں گا۔نیز وہ جتنے روز یہاں رہا پیغامیوں کا لٹریچر تقسیم کرتا رہا۔اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی خط و کتابت مولوی صدر دین صاحب سے ہے اور ہر روز وہ کہا کرتا تھا کہ میں نے انہیں آج خط لکھا ہے۔اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ ابتدائی دنوں میں پیغامیوں کی مسجد میں رہتا رہا ہے اور میاں محمد صاحب لائلپوری جو کچھ عرصہ پیغامیوں کے امیر رہے ہیں اور گزشتہ دنوں مری میں تھے ان کے گھر جا کر کھانا کھاتا رہا ہے۔اور اس نے مجھے کہا کہ انہوں نے مجھے اجازت دے رکھی ہے کہ جب چاہو میرے گھر آجایا کرو۔میں رات کے گیارہ بجے تک مکان کا دروازہ کھلا رکھا کروں گا۔جس روز محمد شریف صاحب اشرف سے اللہ رکھا کا جھگڑا ہوا تھا اُس دن رات کو جب وہ مسجد میں آیا تو اس نے کہا یہ میری پیشگوئی ہے کہ جس طرح پہلے خلافت کا جھگڑا ہوا تھا اب پھر ہونے والا ہے آپ ایک ڈیڑھ سال میں دیکھ لیں گے"۔دستخط ظهور القمر 1956ء-7-25) اس شہادت کو پڑھ کر دوستوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ سب سازش پیغامیوں کی ہے اور اللہ رکھا انہی کا آدمی ہے۔وہ مولوی صدر دین غیر مبائع منکر نبوت مسیح موعود کے پیچھے نماز جائز سمجھتا ہے لیکن مرزا ناصر احمد جو حضرت مسیح موعود کا پوتا ہے اور ان کی