انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 8

انوار العلوم جلد 25 8 سیر روحانی (8) میری مخالفت تم جانے دو میں نے یہاں تو یہ نظارہ دیکھا ہے چنانچہ ریل پر دیکھ لو ابھی چلو اس وقت اگلے اسٹیشن پر اُس وقت گاڑی چل چکی تھی ) جب اگلا اسٹیشن آئے گا اُس وقت دیکھ لینا کہ ریل میں ستر فیصدی یہودی بیٹھا ہوا ہے، پندرہ بیس فیصدی عیسائی بیٹھا ہوا ہے باقی دس فیصدی اسی فیصدی کا نمائندہ بیٹھا ہوا ہے۔تو میں مخالفت کروں یا کوئی کرے جب تک مسلمان اپنا نظریہ نہیں بدلیں گے ، اپنے حالات نہیں بدلیں گے ، اپنا طریقہ نہیں بدلیں گے جیتنا تم نے ہی ہے انہوں نے تو جیتنا نہیں۔گھبر اتے کس بات سے ہو ؟ اور پھر یہی ہوا۔آخر اس قوم میں جو باہر نکلتی ہے اور بھاگی پھرتی ہے کوئی نہ کوئی بے کلی کی وجہ ہوتی ہے یو نہی تو نہیں لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کھڑے ہوتے۔ان کے اندر ایک جوش ہوتا ہے، ایک ارج (URGE) ہوتی ہے پیچھے سے کہ چلو چلو چلو۔اور وہ چلو چلو کی ارج (URGE) کے ماتحت چل پڑتے ہیں اور پھر ان کا بچہ بڑا ہر ایک اس میں کام کرتا ہے۔امریکنوں کو دیکھ لو ساری دنیا کا سفر کرتے پھریں گے۔پہلے انگلستان والے کرتے تھے اور اب ان میں کمی آگئی ہے اب امریکن ہیں کہ ساری دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں۔کسی زمانہ میں عرب میں یہ رواج تھا بلکہ اب بھی یہ بات حجاز کے لوگوں میں کسی قدر پائی جاتی ہے، اب بھی وہ دنیا کے سارے اسلامی ملکوں کے باشندوں سے زیادہ غیر ملکوں میں پھرتے ہوئے نظر آجائیں گے۔کیونکہ وہ دھکا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لگایا تھا اور گاڑی چلائی تھی وہ گاڑی اب بھی رینگتی چلی جاتی ہے۔چودہ پندرہ سو سال ہو گئے مگر اس گاڑی کی حرکت ساکن نہیں ہوئی۔تو اخبار ایک دلیل ہو تا ہے اِس بات کی کہ قوم کے اندر کتنی بیداری ہے ، کتنا اضطراب ہے اور انقلاب کی کتنی خواہش ہے۔اگر کوئی قوم اخباروں کی طرف توجہ نہیں کرتی تو یقیناً وہ اپنی ترقی کی پوری طرح خواہش نہیں رکھتی۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ پورے زور سے الفضل کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ہندوستان کے لئے ہمارا اخبار "بدر" ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک اس نے بدر پوری ترقی نہیں کی۔ہمارے قادیان کے دوست جب گھبراتے ہیں تو مجھے لکھ دیتے