انوارالعلوم (جلد 25) — Page 7
انوار العلوم جلد 25 7 سیر روحانی (8) لیکن متواتر ہم کو آجکل یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ کئی جماعتیں ایسی ہیں کہ ساری جماعت میں ایک الفضل بھی نہیں پہنچ رہا حالانکہ چھوٹی جماعتیں آپس میں چندہ کر کے اور آپس میں مل کر ایک ایک اخبار خرید سکتی ہیں۔در حقیقت دو ہی چیزیں ہیں جو قوم کی ترقی پر دلالت کرتی ہیں ایک اخبار اور ایک ریلوے کا سفر یا لاری کا سفر۔جو قوم سفر زیادہ کرتی ہے وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے اور جس قوم میں اخبار زیادہ چلتے ہیں وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔کیونکہ اخبار پڑھنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس شخص کی روح نچلی 1 نہیں بیٹھ سکتی۔اس کے اندر ایک اضطراب پایا جاتا ہے۔اخبار کیا کرتا ہے ؟ وہ ہر روز ہم کو ایک نئی خبر دیتا ہے۔جس دن اخبار نہیں آتا تو لوگ جس طرح افیون نہیں کھائی ہوتی گھبر ائے پھرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں دنیا کے انقلاب کا پتہ نہیں لگتا۔اور جو شخص انقلاب کی جستجو کرتا ہے در حقیقت اس کے اندر بھی ایک انقلابی مادہ پایا جاتا ہے۔تو قوم کی ترقی کا اگر کسی شخص نے اندازہ لگانا ہو تو وہ دو چیزیں دیکھ لے کہ وہ قوم کتنا سفر کرتی ہے اور اخبار کے ساتھ اس کو کتنی دلچسپی ہے۔میں جب فلسطین میں گیا تو اُس وقت یہودی سارے ملک کی آبادی کا دسواں حصہ تھے اور دسواں حصہ عیسائی تھے اور اسی فیصدی مسلمان تھے لیکن ریلوں میں میں نے سفر کر کے دیکھا تو یہودی ہوتا تھا قریباً ستر فیصدی اور عیسائی ہو تا تھا کوئی پندرہ بیس فیصدی اور مسلمان ہوتا تھا دس فیصدی۔میرے پاس ایک سفر میں ایک یہودی آیا وہ ریلوے کا افسر تھا۔میں تو اُس کا واقف نہیں تھا نہ پہلے کبھی ملا۔معلوم ہوتا ہے یہودیوں نے ہماری بھی ٹوہ رکھی تھی۔وہ آیا اور اس نے کہا کہ میں نے آپ سے ملنا ہے۔وہیں کمرہ میں آکر بیٹھ گیا۔کہنے لگا کہ میں ریلوے کا افسر ہوں اور شام وغیرہ جاتے وقت بارڈر کی نگرانی میرے سپر د ہے۔میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا کہو۔کہنے لگا میں یہ بات کرنا چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے کیوں مخالف ہیں ؟ میں نے کہا تمہیں کس نے بتایا ہے کہ میں مخالف ہوں؟ کہنے لگا میں سن رہا ہوں کہ آپ ہمارے خلاف باتیں کرتے ہیں۔میں نے کہا میں مخالفت کروں یا کچھ کروں (اُس وقت میں نے یہی بات کہی کہ)