انوارالعلوم (جلد 25) — Page 280
انوار العلوم جلد 25 280 سیر روحانی نمبر (9) آسمان اور زمین دونوں کا ایک بھنڈ ا سا تھا تو ہم نے (اُسکو توڑ کر) زمین و آسمان کو الگ الگ کیا۔"57 یعنی جیسے ایک گول ساڈھیر یا خشک ڈلا ہوتا ہے اسی طرح وہ بنے ہوئے تھے۔پھر ہم نے اس کو کھولا۔چنانچہ علم ہیئت سے یہی پتہ لگتا ہے کہ دنیا میں پہلے ذرات پیدا ہوتے ہیں پھر وہ ذرات سمٹنے شروع ہوتے ہیں اور مرکز میں ذرات کا ایک ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔پھر وہ چکر کھانے لگتا ہے اور اس چکر سے جو ار دیگر د کے ذرات ہوتے ہیں اُن کو دھکا لگتا ہے اور وہ دُور جا پڑتے ہیں۔اور ہوا میں دُور جانے کی وجہ سے اُن میں گرمی پیدا ہوتی ہے اور ابخرے پیدا ہوتے ہیں۔پھر بارش آتی ہے جو اُن کو ٹھنڈا کرتی ہے اور اس طرح ایک کرہ بن جاتا ہے۔وہی نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اگر تم نے بدء عالم کا پتہ لگانا ہے تو اس بات پر غور کرو جو ہم تمہارے سامنے بیان کر رہے ہیں۔علیم موسمیات کی نہر پھر عظم موسمیات کو دیکھ تو وہ بھی قرآن کریم نے بیان کیا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ إِنَّهُ لَقَوْلُ فَضْلُ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ _ 58 یعنی تم بادل کو دیکھو جو بار بار برستا ہے اور زمین کو دیکھو جو پھٹتی ہے تو اس میں سے پھل وغیرہ نکلتا ہے۔اگر تم ان باتوں پر غور کر و تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ہر چیز کے لئے خدا نے ایک موسم مقرر کیا ہے۔کسی میں پانی اُترتا ہے، کسی میں کوئی خاص تر کاری اگتی ہے۔اگر تم اس طرح غور کرو گے تو تمہیں اس سے بھی بڑے بڑے علوم حاصل ہو جائیں گے۔غرض قرآن کریم نے ان تمام علوم کی طرف جو دنیا میں جاری ہیں اشارہ کیا ہے اور اُن کے سیکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اُن کا منبع بتایا ہے کہ فلاں فلاں جگہ سے تم ان علوم کو نکال سکتے ہو۔پس جس قدر دنیوی علوم ہیں اُن کا ماخذ قرآن کریم ہے اور ان کی طرف اس نے بار بار توجہ دلائی ہے۔علومِ دینیہ کی نہ مگر اس کے علاوہ اُس نے دینی علوم کی نہریں بھی جاری کی ہیں اور در حقیقت یہی نہریں روحانی نقطہ ء نگاہ سے زیادہ اہمیت۔