انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 279

انوار العلوم جلد 25 279 سیر روحانی نمبر (9) کہ پچھلی قوموں کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں اُن میں سے بعض کے نشانات تو اب تک موجود ہیں یعنی وہ ہسٹارک ہیں۔اور بعض پری ہسٹارک ہیں اُن کے نشانات مٹ چکے ہیں اور کوئی تاریخ اُن پر روشنی نہیں ڈالتی۔علیم بدء عالم کی نہر پھر علم بدو عالم بھی قرآن کریم بیان فرماتا ہے۔جسے اصطلاحاً ایتھنالوجی (ETHNOLOGY) کہتے ہیں۔یعنی زمین کس طرح بنی ہے ، آسمان کس طرح بنے ہیں اور پیدائش عالم کس طرح ہوئی ہے۔فرماتا ہے۔قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَا الخَلْقَ - 55 یعنی تم زمین میں ذرا پھر کر تو دیکھو۔پھر تمہیں پتہ لگے گا کہ پیدائش عالم کس طرح ہوئی تھی۔اسی کو ایتھالوجی کہتے ہیں یعنی مختلف قوموں کے جو آثار ہیں اُن سے نتیجہ نکال کر تاریخ کا پتہ لگانا۔فرماتا ہے اگر تم نے دنیا کی تاریخ کا پتہ لگانا ہے تو یہ تمہیں کسی ایک ملک سے نہیں لگے گا، مختلف ملکوں میں مختلف تہذیبیں مختلف قوموں نے اختیار کی ہیں۔پس اگر تم پچھلی قوموں کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے ہو تو ساری دنیا میں پھر و۔کسی ایک ملک سے تمہیں دنیا کی تاریخ کا پتہ نہیں لگے گا۔بلکہ مختلف ملکوں میں جا کر تمہیں پتہ لگے گا کہ کسی صدی میں ہندوستان میں تہذیب پھیلی ، کسی صدی میں ایران میں پھیلی، کسی صدی میں روم میں پھیلی، کسی صدی میں عرب میں پھیلی، کسی صدی میں شام میں پھیلی، کسی صدی میں مصر میں پھیلی، کسی صدی میں کسی اور ملک میں پھیلی۔تو ایتھنالوجی کے علم کے لئے ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں کی سیر کرو۔اسی طرح بدء عالم یعنی ساری دنیا کی پیدائش کے متعلق فرماتا ہے۔اَو لَمْ يَد الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَى أَفَلَا يُؤْمِنُونَ 5 یعنی کیا کافر یہ نہیں دیکھتے کہ آسمان اور زمین پہلے ایک گچھا سا بنے ہوئے تھے۔پھر ہم نے ان کو کھولا۔مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ :- "کیا جو لوگ منکر ہیں اُنہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ