انوارالعلوم (جلد 25) — Page 183
انوار العلوم جلد 25 183 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء یہ بہت بڑا فرق ہے جو میری صحت میں واقع ہوا۔کجا بارہ مہینے پہلے کی حالت اور کجا آج کی حالت۔سوائے اِس کے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض دفعہ ایسا وقت بھی آتا ہے کہ میں اپنے آپ کو بالکل تندرست محسوس کرتا ہوں۔پچھلے مہینہ میں نومبر کے آخر میں یا دسمبر کے شروع میں پندرہ دن ایسے رہے کہ میں کمرہ میں ٹہلتا تھا۔آخر ٹہلنا پڑتا ہے کیونکہ گھبراہٹ ہوتی ہے اور یہ بھی غالباً اس بیماری کے نتیجہ میں ہے۔چونکہ پہلے چلنا پھرنا بند ہو گیا تھا طبیعت اندرونی طور پر محسوس کرتی ہے کہ میں چل کے دیکھوں کہ چل سکتا ہوں یا نہیں۔تو ٹہلتا ہوں اور ٹہلتا چلا جاتا ہوں یہاں تک کہ پیر تھک جاتے ہیں۔غرض پندرہ دن ایسے رہے کہ میر ادماغ بالکل یوں محسوس کرتا تھا کہ اس پر کوئی بوجھ نہیں اور نماز میں مجھے بھولنا بھی بند ہو گیا تھا۔شروع شروع میں جب میں کراچی گیا ہوں تب تو یہ حال تھا کہ پاس آدمی بیٹھتے تھے جو بتاتے جاتے تھے کہ اب سجدہ کریں، اب سجدہ سے اٹھیں۔یہاں بھی آکر کچھ بھولا مگر پھر ٹھیک ہو گیا۔مگر اس کے بعد پھر یہی کیفیت ہو گئی جس پر میں نے اپنے ساتھ ایک آدمی کھڑارکھنا شروع کیا کہ تم کھڑے ہو جاؤ گے تو مجھے پتہ لگ جائے گا کہ کھڑا ہونا ہے، بیٹھ جاؤ گے تو مجھے پتہ لگ جائے گا کہ مجھے بیٹھنا ہے۔مگر آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ نے طبیعت پر ایسا قابو دے دیا کہ بغیر اُس کے بیٹھنے یا قطع نظر اس کے کھڑا ہونے کے میں آپ ہی آپ کھڑا ہو جاتا تھا اور رکوع کرتا تھا اور تشہد پڑھتا تھا۔اسی طرح گھر میں نماز پڑھتا ہوں تو بیوی کو بٹھا لیتا ہوں کہ دیکھتے جانا میں غلطی تو نہیں کرتا۔مگر کئی دفعہ ایسے وقت بھی آتے ہیں کہ نماز بالکل ٹھیک پڑھتا ہوں اور کوئی بات نہیں بھولتی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض دعاؤں کا نتیجہ ہے اور دعاؤں کے ساتھ ہی اس کا تعلق ہے۔مجھے خدا تعالیٰ نے خواب میں بھی یہی بتایا ہے۔سو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس جلسہ کو مبارک کرے اور آئندہ سینکڑوں جلسوں کے لئے اس سے برکت کا سلسلہ قائم کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا ہے کہ مجھ سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تین سو سال تک تمہاری جماعت بڑی طاقتور اور مضبوط ہو جائے گی۔1 تین سو سال