انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 182

182 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء انوار العلوم جلد 25 عشاء میں نے گھر میں جمع کر کے پڑھی اس سے پہلے میری طبیعت میں بڑی تشویش سی تھی اور سر چکراتا تھا مگر سلام پھیر کر میں کھڑا ہوا تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں بالکل تندرست ہوں اور ساری تکلیف اور کوفت دور ہو گئی۔تو اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک اشارہ کے ساتھ اس کو ٹھیک کر سکتا ہے اور پھر مجھے خدمت دین کی توفیق دے سکتا ہے۔بہر حال جہاں تک سلسلہ کی ضرورتوں کا سوال ہے یہ تو اگر خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی تو کل تقریر میں بیان کروں گا۔اس وقت دوستوں کو اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں پہلے بھی ایک خطبے میں بیان کر چکا ہوں میری بیماری زیادہ تر اعصابی رہ گئی ہے۔جہاں تک اصل بیماری کا سوال تھا ڈاکٹروں کا یہی خیال ہے کہ وہ جا چکی ہے صرف اعصابی تکلیف باقی ہے۔چنانچہ سوئٹزر لینڈ کا ایک مشہور ڈاکٹر جسے بوسٹن میڈیکل کالج امریکہ والے بھی جو وہاں کا بڑا بھاری کالج ہے تقریر کے لئے بلایا کرتے ہیں اور جس کے متعلق ہمارے دوستوں نے بھی وہاں سے مشورہ کر کے تار کے ذریعہ ہمیں لکھا تھا کہ اسے ضرور دکھاؤ۔اُس کا یہ فقرہ تھا کہ اب یہ بیماری آپ کے اختیار میں ہے آپ زور لگائیں اور بھول جائیں۔میں نے کہا میں بھولوں کس طرح؟ اِس کا بھی علاج بتاؤ۔کہنے لگا اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی صحت بیماری کے حملہ سے پہلے بہت اچھی تھی اب یکدم اس چیز میں جو کمی آئی ہے وہ آپ کو بہت محسوس ہوتی ہے اور آپ اس کو بھلا نہیں سکتے۔پھر جب میں اٹھا تو یورپین لوگوں کے طریق کے مطابق میرے سینہ کی طرف اپنا ہاتھ کر کے اور انگلی ہلا کر کہنے لگا کہ میری نصیحت آپ کو یہ ہے کہ Be optimistic Be optimistic اپنی امید مضبوط کرو پھر یہ بیماری جاتی رہے گی۔وہ کہنے لگا جہاں تک طبی سوال ہے میرے نزدیک بیماری چلی گئی ہے لیکن آپ اپنے نفس پر قابو کر کے اسے بھلا دیں گو آپ کے لئے یہ مشکل ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی صحت پہلے بہت اچھی تھی یکدم جو آپ آکے ناکارہ ہو گئے تو جو صدمہ آپ کے دماغ کو پہنچا ہے اس کی وجہ سے آپ بیماری کو بھلا نہیں سکتے مگر کوشش کریں کیونکہ علاج یہی ہے۔جس دن آپ اپنی طبیعت پر غالب آجائیں گے جہاں تک جسمانی مرض کا سوال ہے وہ ختم ہو جائے گی۔