انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 94

انوار العلوم جلد 25 94 احباب جماعت کے نام پیغامات ناظر صاحب بیت المال سے کہا کہ کیا اس روپیہ کا پتہ لیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم رجسٹریاں لکھ لکھ کر تھک گئے ہیں، سارے احمدی انکاری ہیں کہ ہم نے روپیہ نہیں بھیجا۔میں نے اُس سعید غیر احمدی کو خط لکھنے شروع کئے کہ اتنا روپیہ آپ کی طرف سے ملا ہے یہ غالباً اس قرضہ کی تحریک کے نتیجہ میں ہے جو بیت المال کی طرف سے کی گئی تھی آپ اطلاع دیں تاکہ سلسلہ اس کو اپنے حساب میں درج کر لے لیکن کئی ماہ مسلسل رجسٹری خطوط بھجوانے کے بعد ایک جواب آیا اور وہ جواب یہ آیا کہ آپ کو غلطی لگی ہے کہ میں نے سلسلہ احمدیہ کو کوئی قرض دیا ہے۔چھ سو یا آٹھ سو پونڈ انہوں نے لکھے کہ میں نے لندن بینک کے ذریعہ آپ کو بھجوائے تھے مگر وہ بیت المال کو قرض نہیں بھجوائے تھے بلکہ وہ آپ کو نذرانہ تھے۔اس خط کے وصول ہونے پر میری حیرت کی حد نہ رہی کہ اس غیر احمدی کو اللہ تعالیٰ نے وہ توفیق دی جو کئی احمدیوں کو بھی نہ ملی تھی۔ممکن ہے غیر احمدیوں میں کوئی مالدار ہو مگر میرے علم میں تو غیر احمدیوں میں بھی کوئی اتنا مالدار نہیں تھا جو اس بشاشت سے چھ سو یا آٹھ سو پونڈ نذرانہ بھجوا دے مگر بہر حال چونکہ وہ سلسلہ کے لئے مد نظر تھا اور وہ بھیجنے والا غیر احمدی تھا اس لئے میں نے نوٹ کر لیا کہ یہ روپیہ سلسلہ کا ہے اور مسجد لندن کے حساب میں میں نے وہ رقم بینک میں جمع کرا دی۔اور حساب کر کے گزشتہ سال تحریک جدید کو مسجد لندن کے حساب میں 731 یا 750 پونڈ ادا کر دیئے جس سے مسجد لندن کی مرمت وغیرہ ہوئی۔بہر حال اس طرح میں بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہوا اور مسجد کی مرمت بھی ہو گئی اور خدا تعالیٰ نے خانہ خدا خانہ کفر میں بنوانے کی توفیق بخشی۔اُسی نے وہ نذرانہ بھیج کر مجھ پر احسان کیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی کہ میں اُس کے احسان کی قدر اس صورت میں ظاہر کروں کہ وہ روپیہ خانہ خدا کے بنانے پر خرچ ہو جائے۔اس وقت ہماری جماعت اُس وقت سے کئی گنے زیادہ ہے بلکہ شاید میں گنے زیادہ ہے اور اگر مرکز احمدیت کی تحریک پر وہ لوگ بھی انگریزی سکہ سے ہماری مدد کریں خواہ قرض کے طور پر ہی ہو تو یہ سفر ہمارا آسانی سے گزر جاتا ہے۔چونکہ میں بیماری کی وجہ