انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 80

انوار العلوم جلد 25 80 سیر روحانی (8) اس کے معنے یہ ہیں کہ اُن کے مذہب کو قائم ہوئے چوراسی سال ہو گئے اور چوراسی سال میں ایک گاؤں بھی تو انہوں نے مقدس نہیں بنایا۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں حکومت حاصل نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس بھی تو حکومت نہیں، ہم نے تو چند سال میں ربوہ بنا لیا۔پہلے قادیان بنا ہوا تھا اب ربوہ بنا ہوا ہے۔یہاں ہم آتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، اکٹھے رہتے ہیں، یہ بھی تو بتائیں کہ دنیا میں ان کا کوئی مرکز ہے یا دنیا میں کسی جگہ پر وہ اکٹھے ہوتے ہیں؟ لیکن اسلام پر صرف پانچ سال کے قبضہ کی وجہ سے اُن کے بغض نکلتے ہیں اور کہتے ہیں اسلام ختم ہو گیا اور اپنی یہ حالت ہے کہ عکہ کو مرکز قرار دیا ہوا ہے اور کہتے ہیں کہ حدیثوں میں بھی پیشگوئیاں تھیں کہ عکہ اُن کے پاس ہو گا اور تورات میں بھی پیشگوئیاں تھیں مگر اب عکہ میں بہائیوں کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔پھر اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں اور کئی بیوقوف ہیں جو ان کے اعتراضوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں مگر اس کا موقع کسی دوسرے لیکچر میں آئیگا، آج میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔فلسطین پر یہود کا عارضی قبضہ غرض بابلیوں کے آنے اور رومیوں کے عارضی طور پر وہاں آجانے سے جس کا عرصہ اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے ایک دفعہ ایک سو سال اور دوسری دفعہ قریباً تین سو سال کا تھا اگر اس کو موسیٰ اور داؤد کے پیغام کے منسوخ ہونے کی علامت قرار نہیں دیا گیا تو اس وقت یہود کا عارضی طور پر قبضہ جس پر صرف پانچ سال گزرے ہیں اسلام کے منسوخ ہونے کی علامت کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ یہ تو اس کے صادق ہونے کی علامت ہے۔کیونکہ جب اس نے خود یہ پیشگوئی کی ہوئی تھی کہ ایک دفعہ مسلمانوں کو نکالا جائے گا اور یہودی واپس آئیں گے تو یہودیوں کا واپس آنا اسلام کے منسوخ ہونے کی علامت نہیں اسلام کے سچا ہونے کی علامت ہے۔کیونکہ جو کچھ قرآن نے کہا تھا وہ پورا ہو گیا۔باقی رہا یہ کہ پھر عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ کے ہاتھ میں کس طرح رہا؟ یہود فلسطین سے نکالے جائیں گے سو اس کا جواب یہ ہے کہ عارضی طور پر قبضہ پہلے بھی دو دفعہ نکل چکا ہے