انوارالعلوم (جلد 25) — Page 79
انوار العلوم جلد 25 79 سیر روحانی (8) کے قبضہ میں نہیں تھا، مسجد میں سور کی قربانی کی جاتی تھی تب بھی وہ پیشگوئی غلط نہیں ہوئی لیکن یہودیوں کے آنے پر پانچ سال کے اندر اسلام منسوخ ہو گیا کیسی پاگل پن والی اور دشمنی کی بات ہے۔یہودیت اور عیسائیت کو بہائی اگر واقع میں کسی غیر قوم کے اندر آجانے سے کوئی پیشگوئی غلط ہو جاتی ہے اور عارضی کیوں منسوخ قرار نہیں دیتے؟ قبضہ بھی مستقل قبضہ کہلا تا ہے تو تم نے سو سال پیچھے ایک دفعہ قبضہ دیکھا ہے۔تین سو سال دوسری دفعہ کا فروں کا قبضہ دیکھا ہے، اُس وقت کی یہودیت کو تم منسوخ نہیں کہتے اُس وقت کی عیسائیت کو تم منسوخ نہیں کہتے لیکن اسلام کے ساتھ تمہاری عداوت اتنی ہے کہ پانچ سال کے بعد ہی تم اس کو اسلام کی منسوخی کی علامت قرار دیتے ہو۔جب اتنا قبضہ ہو جائے جتنا کہ عیسائیت کے زمانہ میں یہ اُن کے ہاتھ سے نکلی رہی تھی اور فلسطین غیر عیسائیوں کے قبضہ میں رہا تھایا غیر یہودیوں کے قبضہ میں رہا تھا تب تو کسی کا حق بھی ہو سکتا ہے کہ کہے لو جی! اسلام کے ہاتھ سے یہ جاگیر نکل گئی لیکن جب تک اتنا قبضہ چھوڑ اِس کا سواں حصہ بھی قبضہ نہیں ہوا، ساٹھواں حصہ بھی قبضہ نہیں ہوا، پچاسواں حصہ بھی قبضہ نہیں ہوا تو اس پر یہ اعتراض کرنا محض عداوت نہیں تو اور کیا ظاہر کرتا ہے۔بہائیوں کی اپنی لا مرکزیت پھر عجیب بات یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے بہائی ہیں جن کا اپنا وہی حال ہے جیسے ہمارے ہاں مثل مشہور ہے کہ نہ آگا نہ پیچھا۔وہ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ مکہ اس کے پاس ہے مدینہ اس کے پاس ہے۔ہم ان سے کہتے ہیں، "چھاج بولے تو بولے چھلنی کیا بولے جس میں سو سوراخ "۔تمہارا کیا حق ہے کہ تم اسلام پر اعتراض کرو۔تمہارے پاس تو ایک چپہ زمین بھی نہیں جس کو تم اپنا مرکز قرار دے سکو۔اسلام کا تومکہ بھی موجو د ہے اور مدینہ بھی موجود ہے۔وہ تو ایک زائد جاگیر تھی، وہ جاگیر اگر عارضی طور پر چلی گئی تو پھر کیا ہوا۔اس کے مقابلہ میں 1870 ء سے بہائیت کا آغاز ہوا اور اب 1954ء ہو گیا ہے۔