انوارالعلوم (جلد 24) — Page 534
انوار العلوم جلد 24 534 سال 1954ء کے اہم واقعات نے ایک دفعہ ایسی ہی بات کہہ دی۔پیچھے اس نے بتایا کہ مجھے سکھایا گیا تھا کہ ایسا کہنا اچھا ہوتا ہے ہے لیکن بہر حال وہ دھوکا میں آگئی اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں آپ کے پاس آنا پسند نہیں کرتی۔اسی وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور آپ نے فرمایا اس کو مہر وغیرہ اخراجات دے دو اور اس کو رخصت کر دو۔3 اور کو دیکھو یہ چیز ہے جو اسلام سکھاتا ہے کہ اس کی درخواست کو اور اس کے اس فقرہ کو ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلع سمجھا اور اسے خلع قرار دے دیا۔پس اگر ایک عورت خلع ما نگتی ہے تو جس طرح تم کو طلاق دینے کا حق ہے عورت کے لئے شریعت نے خلع رکھا ہے تم کیوں خواہ مخواہ اس پر لڑا کرتے ہو۔پھر طلاق دیتے ہیں تو مہر کے لئے ہزاروں بہانے بناتے ہیں کہ میں نے مہر نہیں دینا اگر مہر دینے کی طاقت نہیں تو اس کو طلاق ہی کیوں دیتے ہو۔پس مردوں کو عورتوں کے متعلق اپنے رویہ میں اصلاح کرنی چاہیئے۔ورنہ یہ دونوں گروہ اسلام کے لئے بشاشت محسوس نہیں کریں گے جو انہیں محسوس کرنی چاہیئے۔اب میں جماعت کو اشاعت لٹریچر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس سال کچھ نئی کتابیں اور لٹریچر شائع ہوا ہے جن میں سے ایک کتاب مسئلہ ختم نبوت پر قاضی محمد نذیر صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ نے لکھی ہے۔میں نے اب تو یہ کتاب نہیں دیکھی لیکن جب انہوں نے یہ مضمون لکھنے کا ارادہ کیا تھا تو وہ اس کے ہیڈنگ بنا کر میرے پاس لائے تھے اور مجھ سے انہوں نے مشورہ کیا تھا۔میرا اثر یہی ہے کہ یہ کتاب اچھی اور اس زمانہ کے لحاظ سے مفید ہو سکتی ہے۔میں نے ان کو سمجھایا تھا کہ ہمارے ہاں پہلے جو طریق رہا ہے کہ بعض بے احتیاطیوں کی وجہ سے لوگوں کو خواہ مخواہ ٹھوکر لگی اُس سے آپ کو بچنا چاہئے۔جب صداقت پہلے بھی آپ لوگ پیش کرتے تھے اور اب بھی پیش کرتے ہیں تو کیوں نہ ایسے الفاظ میں اس کو پیش کیا جائے جو دوسروں کے لئے تکلیف دہ نہ ہوں یا کم از کم ان کو پیچھے پھر انے والے نہ ہوں۔دوسری کتاب حیات بقا پوری ہے اس میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے